پارٹی تھیسس کا اکائی اور غیر متغیر جسم انٹرنیشنل کمیونسٹ پارٹی


کیمونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو
کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز
1848
فہرست:
انٹرنیشنل کمیونسٹ پارٹی کا تعارف (2021)
1۔ بورژوا اور پرولتاریہ
2۔ پرولتاریہ اور کیمونسٹ
3۔ سوشلسٹ اور کیمونسٹ ادب
1) رجعتی سوشلزم
ا) جاگیرداری سوشلزم
ب) پیٹی بورژوا سوشلزم
ج) جرمن یا "سچی" سوشلزم
2) قدامت پسند سوشلزم اورکیمونزم
3) یوٹوپیائی سوشلزم اور کیمونزم
4 )حکومت کی دوسری مخالف پارٹیوں سے کیمونسٹوں کا تعلق
٭ 1872 کے جرمن ایڈیشن کا دیباچہ
٭ 1882 کے روسی ایڈیشن کا دیباچہ
٭ 1883 کے جرمن ایدیشن کا دیباچہ
٭ 1888 کے انگریزی ایڈیشن کا دیباچہ
٭ 1890 کے جرمن ایڈیشن کا دیباچہ
٭ 1892کے پولش ایڈیشن کا دیباچہ
٭ 1893 کے اطالوی ایڈیشن کا دیباچہ


انٹرنیشنل کمیونسٹ پارٹی کا تعارف (2021)

کمیونسٹ پارٹی کا منشور 1848 میں مارکس اور اینگلز نے یورپ میں انقلابات پھوٹنے کے موقع پر لکھا تھا، نوزائیدہ کمیونسٹ لیگ کے حکم پر۔ مینی فیسٹو کی اشاعت نے تنقیدی کمیونزم (انقلابی مارکسزم) کے نظریہ اور تحریک کے ظہور کی نشاندہی کی، مزدور تحریک کا وہ واحد سیاسی اظہار جو طبقاتی فتح حاصل کرنے کے قابل ہے -- اس کے ذریعے آزادی، نجی ملکیت کا خاتمہ، اس کی تاریخی تنظیم: کمیونسٹ پارٹی میں مجسم ہے۔

اپنی تشکیل کے بعد سے پارٹی نے ایک تکلیف دہ اور طویل ترقی کی ہے، جس میں بہت سی شکستوں اور چکروں کا سامنا ہے جنہوں نے بار بار اس کی رسمی تنظیم کو تباہ کیا اور اس کے عسکریت پسندوں کو منتشر کیا۔ بدترین شکست 1926 میں سٹالنسٹ ردِ انقلاب تھی جس نے روس میں پرولتاریہ کو حکمران طبقے کے طور پر اکھاڑ پھینک اور عالمی کمیونسٹ تحریک کو جھوٹی سوشلسٹ روسی ریاست کے پیادوں میں تبدیل کر دیا، جو اب سرمایہ دارانہ سامراج کی عالمی شطرنج کے کھیل میں ایک بڑا کھلاڑی ہے، بین الاقوامی پرولتاریہ کے اپر اتنی مہیب شکست کہ اس کی آزادی 20ویں صدی کے باقی ماندہ میں ایجنڈے سے تاخیر ہو گئی۔

پھر بھی محنت اور سرمائے کے درمیان ہر عالمی تاریخی تصادم کے ساتھ پارٹی آگ سے مضبوط ہو کر دوبارہ جنم لیتی ہے، ہر بار نظریہ اور حکمت عملی کی زیادہ وضاحت کے ساتھ - کمیونسٹ لیگ (1848-52) سے انٹرنیشنل ورکنگ مینز ایسوسی ایشن (1864-76) سے دوسری انٹرنیشنل (1889-1914) سے کمیونسٹ انٹرنیشنل (1917-26) اور آخر میں انٹرنیشنل کمیونسٹ پارٹی تک (1943): "پرولتاریوں ایک طبقے کی صورت میں اور اس کے نتیجے کے طور پر ایک سیاسی پارٹی میں، مزدور طبقے کی یہ تنظیم خود مزدوروں کے آپس کے مقابلے کی بدولت برابر الٹتی رہتی ہے۔ لیکن ہر بار وہ پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ پائیدار اور زیادہ طاقتور ہو کر اٹھ کر کھڑی ہوتی ہے''

170 سال بعد منشور آج بھی اتنا ہی متعلقہ ہے، اگر اس سے بھی زیادہ نہیں-- پوری دنیا میں سرمایہ داری کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں، جس نے سرمایہ داری سے پہلے کی تمام سماجی تشکیلات کو ختم کر دیا ہے اور عالمی منڈی کے ذریعے انسانیت کی پیداوار کو یکجا کر دیا ہے، جس سے بڑی سماجی پیداواری قوتیں ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور بینکوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو گئی ہیں۔ '' پرانی مقامی اورقومی علحدگی اور خود کفالتی کے بدلے اب ہر طرف باہمی اشتراک کا دور دورہ ہے اور قوموں کی ایک دوسرے سے عالم گیر وابستگی دیکھنے میں آتی ہے۔''

نتیجے کے طور پر، پیداواری قوتوں کی ایک دھماکہ خیز ترقی ہوئی ہے جو سرمایہ داری کے تحت غربت کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ ساتھ دولت کی فلکیاتی بلندیوں کو پیدا کرنے کا تضاد پیدا کرتی ہے:"سماج بحیثیت مجموعی دن بدن دو بڑے مخالف مورچوں میں، دو بڑے طبقوں بورژوا اور پرولتاریہ میں بٹتا جا رہا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔"

نتیجتاً، قومی اور بین الاقوامی سرمایہ دار طبقہ، بورژوازی، اپنے آپ کو چاروں طرف سے اربوں پرولتاریوں میں گھرا ہوا پاتا ہے، جو صرف اپنی طاقت کو محسوس کرنے لگے ہیں، جو ابھی تک خود کو عالمی طبقے کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ دنی کے مزدور اپنا رجہان حرکت کی طرف پائیں گے ان انسانوں کے جوش جذبے سے جن کے ساتھ انسانیت دینے کا انکار، اور وہ اپنے اپ کو ایک طبقے کے طور پر متحد دیکھیں گے، ایک طبقاتی یونین میں منظم، بین الاقوامی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں، اور بین الاقوامی کمیونزم کے سرخ جھنڈے تلے، سیدھا سرمایہ دارانہ نظام کے دل تک مارچ کریں گے اور اس پر قاتلانہ حملہ کریں گے۔

کمیونسٹ انقلاب کا فوری پروگرام

1)    "سرمایہ کی غیر سرمایہ کاری" - پیداوار کے ذرائع کو اشیائے صرف کے سلسلے میں ایک چھوٹا تناسب تفویض کیا گیا ہے۔

2)    "مزدوری کی لاگت میں اضافہ" - جب تک اجرت، پیسہ، اور مارکیٹ اب بھی موجود ہے، کم مزدوری کے وقت زیادہ معاوضے کا تبادلہ کیا جات ہے۔

3)    "مزدوری کے وقت میں انتہائی کمی" کم از کم نصف بے روزگاری اور سماجی طور پر بیکار اور نقصان دہ سرگرمیاں جلد ہی ماضی کی چیزیں بن جائیں گی۔

4)    "کم پیداوار کا منصوبہ" - جو کچھ پیدا ہوتا ہے اس کے بڑے پیمانے پر کمی اور جو ضروری ہے اس پر پیداوار کا ارتکاز۔

5)    "کھپت کا آمرانہ ضابطہ" - بیکار، نقصان دہ، اور پرتعیش استعمال کی اشیا کی تشہیر کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور ایسی سرگرمیاں جو رجعتی ذہنیت کو پروان چڑھاتی ہیں، ان کو تشدد طر پر ممنوع کی جائے گی۔

6)    "انٹرپرائز کی حدود کی تیزی سے تحلیل" - پیداوار کے بارے میں فیصلے افرادی قوت کو تفویض نہیں کیے جاتے ہیں، بلکہ نئے استعمال ک منصوبہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کیا پیدا کیا جانا ہے۔

7)    "سماجی خدمات کا تیزی سے خاتمہ" - خیرات دینے کا نظام جو تجارتی پیداوار کی خصوصیت ہے، اس نظام کو تبدیل کر دیا جائے گا - کام کرنے سے قاصر افراد کے لیے ایک سماجی (ابتدائی کم از کم) فراہمی۔

8)    بڑے اور چھوٹے شہروں کے ارد گرد رہائش اور کام کی جگہوں کے حلقوں میں "تعمیراتی منجمد" تاکہ آبادی کو زیادہ سے زیادہ یکساں طور پر ملک کے تمام زمینی رقبے میں پھیلانے کے لیے، اس کے ساتھ غیر ضروری نقل و حمل، ٹریفک کی محدودیت، اور نقل و حمل کی رفتار پر پابندی۔

9)    "پیشہ ورانہ مہارت کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد" اور محنت کی سماجی تقسیم کیریئر بنانے یا ٹائٹل حاصل کرنے کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کے ذریعے۔

10)    اسکولوں، پریس، تمام ذرائع ابلاغ اور معلومات کے ساتھ ساتھ ثقافت اور تفریح کے تمام شعبوں کو پرولتاریہ ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے لیے فوری طور پر سیاسی طور پر طے شدہ اقدامات۔


کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو

یورپ کے اوپر ایک بھوت منڈلا رہا ہے۔ کمیونزم کا بھوت ۔ اس بھوت کو اتارنے کے لئے پرانے یورپ کی تمام طاقتوں پوپ اور بادشاہ میٹرنک اور گیزو، فرانسیسی ریڈ یکل اور جرمن پولیس کے جاسوسوں نے ایک مقدس اتحاد کر لیا ہے۔

وہ کون سی مخالف پارٹی ہے جسے اس کے ذی اقتدار حریفوں نے کمیونسٹ کہہ کر رسو کیا؟ وہ کون سے مخالف ہیں جنہوں نے اپنے سے زیادہ ترقی پسند مخالف پارٹیوں پر اور اپنے رجعت پسند حریفوں پر بھی الٹا کمیونزم کا کلنک نہ لگایا ہو؟

اس حقیقت سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔

1 ۔ تمام یورپی طاقتوں نے کمیونزم کو بجائے خود اب ایک طاقت تسلیم کر لیا ہے۔

2۔ وقت آگیا ہے کہ کمیونسٹ اب ساری دنیا کے سامنے برملا اپنے خیالات مقاصد اور رجحانات کی اشاعت کریں اور کمیونزم کے بھوت کی اس طفلانہ کہانی کے جواب میں خود اپنی پارٹی کا مینی فیسٹو پیش کریں۔

 اسی غرض سے مختلف قوموں کے کمیونسٹ لندن میں جمع ہوئے اور مندرجہ ذیل مینی فیسٹو تیار کیا جو انگریزی فرانسیسی جرمن اطالوی فلیمی اور ڈینش زبانوں میں شائع کیا جائے گا۔

1۔ بورژوا اور پرولتاریہ

آج تک تمام سماجوں کی تاریخ ۔ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے۔

آزاد اور غلام، پتریشین اور پلیبین، جاگیردار اور زرعی غلام، استاداور کاریگر ، غرضیکہ ظالم اور مظلوم برابر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہے، کبھی کھلے بندوں اور کبھی پس پردہ ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ اور ہر بار اس لڑائی ک انجام یہ ہوا کہ یا تو نئے سرے سے سماج کی انقلابی تعمیر ہوئی یا لڑنے والے طبقے ایک ساتھ تباہ ہو گئے۔

تاریخ کے ابتدائی زمانوں میں تقریبا ہر جگہ ہم سماج کو مختلف پرتوں میں تہہ بہ تہہ پاتے ہیں۔ مختلف سماجی مراتب کا ایک پورا زینہ ملتا ہے۔ قدیم روم میں ہمیں پتریشین، نائٹ، پلیبین ، اور غلام ملتے ہیں اور عہدوسطی میں جاگیردار، آسامی، استاد، کاریگر، نوسکھئے ،شاگرد اور زرعی غلام ۔ اور تقریبا ان تمام طبقوں میں مزید ذیلی تقسیمیں ہیں۔

جدید بورژوا سماج نے جو کہ جاگیر دار سماج کے کھنڈ روں سے ابھرا ہے طبقاتی اختلافات کو دور نہیں کیا۔ اس نے تو محض پرانے کی جگہ نئے ظلم کی نئی صورتیں اور جدوجہد کی نئی شکلیں پیدا کر دیں۔ پھر بھی ہمارا عہد جو بورژوا طبقے ک عہد ہے، ایک امتیازی صفت رکھتا ہے۔ اس نے طبقاتی اختلافات کی پیچدگی کو کم کر دیا ہے۔ سماج بحیثیت مجموعی دن بدن دو بڑے مخالف مورچوں میں، دو بڑے طبقوں بورژوا اور پرولتاریہ میں بٹتا جا رہا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔

عہد وسطی کے زرعی غلاموں سے ابتدائی شہروں کے حقوق یافتہ شہری پیدا ہوئے تھے۔ ان ہی شہروں سے بورژوا طبقے کے ابتدائی عناصر کی نشوونما ہوئی۔

امریکہ کی دریافت اور افریقہ کے گرد جہاز رانی شروع ہونے کی وجہ سے ابھرتے ہوئے بورژوا طبقے کے لئے راہیں کھل گئیں۔ ایسٹ انڈیا اور چین کی منڈیوں، امریکہ کی نو آباد کاری، نوآباد یوں کے ساتھ تجارت ،ذرائع تبادلہ اور عام طور سے اجناس کی کثرت نے تجارت جہاز رانی اور صنعت کو ایسی ترغیب دی جو کہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ اور اس کی وجہ سے گرتے ہوئے جاگیردار سماج میں انقلابی عناصر کو تیزی سے بڑھنے کاموقع ملا۔

صنعت کا نظام سابق جاگیردار انہ یا شاپوں کا، اب نئی منڈیوں کی بڑھتی ہوئی مانگوں کے لئے ناکافی ہو گیا۔ کارخانہ دار نظام نے اس کی جگہ لی۔ استاد کو درمیانی کارخانہ دار پرت نے نکال باہر کیا۔ ہر کارخانے کی اندرونی تقسیم محنت کے مقابلے میں اہل حرفہ کی مختلف جماعتوں کی باہمی تقسیم محنت ختم ہو گئی ۔ اس اثنا میں منڈیاں برابر پھیلتی رہیں۔ مانگ برابر بڑھتی رہی، حتی کہ کارخانہ داری بھی اب کافی نہ ہو سکی۔ تب بھاپ اور مشین نے صنعتی پیداوار میں انقلاب برپا کر دیا۔ کارخانہ داری کی جگہ دیو ہیکل جدید صنعت نے اور درمیانی کارخانہ دار پرت کی جگہ صنعتی کروڑپتیوں نے بڑی بڑی صنعتی فوجوں کے لیڈر، جدید بورژو طبقے نے لے لی۔

جدید صنعت نے عالمگیر منڈی قائم کی، جس کے لئے امریکہ کی دریافت سے راہ کھل چکی تھی۔ اس منڈی نے تجارت ، جہازرانی اور خشکی کے وسائل آمدورفت کو زبردست ترقی دی۔ اس ترقی سے صنعت کے بڑھنے میں اور مدد ملی۔ اور جیسے جیسے صنعت تجارت ، جہاز رانی اور ریلوں کو توسیع ہوئی، اسی مناسبت سے بورژوا طبقے کی نشو و نما ہوئی۔ اس نے اپنا سرمایہ بڑھایا اور ہر اس طبقے کو دھکیل کر پیچھے کر دیا جو عہد وسطی سے چلا آرہا تھا۔

غرضیکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خود جدید بورژوا طبقہ ارتقا کے ایک طویل سلسلے کا، پیداوار اور تبادلے کے طریقوں میں مسلسل کئی تغیرات کا نتیجہ ہے۔

بورژوا طبقے نے اپنی نشوونما کے دوران جو قدم بھی اٹھایا ، اس کے ساتھ اسی مناسبت سے اس طبقے کی سیاسی ترقی بھی ہوئی ۔ جاگیردارکے عہد حکومت میں وہ ایک مظلوم طبقہ تھا۔ زمانہ وسطی کے کمیون (بلدیہ) میں ایک ہتھیار بند اور خود مختار جماعت، کہیں آزاد شہری جمہوریہ(جیسے اٹلی اور جرمنی میں) اور کہیں بادشاہی حکومت میں محصول گذار " تیسرا طبقہ " (جیسے فرانس میں)۔ بعد میں اصل کا رخانہ داری کے زمانے میں اس نے امرا کے خلاف نیم جاگیرداری یا خود مختار شاہی حکومت کا پلہ بھاری کیا اور حقیقت میں عام طور پر بڑی بادشاہتوں کا سنگ بنیاد بنا۔ اسی بورژوا طبقے نے بالا خر بڑی صنعت اور عالم گیر منڈی قائم ہو جانے پر جدید نمائندہ ریاست میں بلاشر کت غیرے اپنے لئے سیاسی اقتدار حاصل کر لیا۔ جدید ریاست کا صیغہ انتظامی تو محض ایک کمیٹی ہے جو پورے بورژوا طبقے کے مشترکہ معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے۔

بورژوا طبقے نے تاریخی اعتبار سے نہایت انقلابی خدمت انجام دی ہے۔

بورژوا طبقے کا جہاں کہیں غلبہ ہوا، اس نے تما م جاگیر دار، سر قبیلی اور دیہاتی رومانوی تعلقات کا خاتمہ کردیا۔ اس نے بے دردی سے ان گونا گوں جاگیردار بندھنوں کو توڑ دیا جو انسان کو اس کے پیدائشی آقاؤں کا پابند کئے ہوئے تھے اور خالص تن پروری اور بے درد نقد لین دین کے سوا آدمی میں اور کوئی رشتہ باقی نہیں رہنے دیا۔ اس نے مقدس مذہبی ولولے بہادر انہ الوالعزمیوں اور پیٹی بورژوا جذبات پرستی کے تمام کیف کو حرص اور خود غرضی کے سرد پانی میں ڈبو دیا۔ اس نے جوہر ذاتی کو آنے پائی میں بدل دیا۔ اور بے شمار ناقابل ضبط سند یافتہ آزادیوں کی جگہ ریا اور مکر سے بھری واحد آزادی قائم کی اور وہ ہے تجارت کی آزادی ۔ مختصر یہ کہ اس نے مذہب اور سیاست کے پردوں سے ڈھکے ہوئے استحصال کی جگہ عریاں، حیا سوز ، براہ راستہ وحشیانہ استحصال رائج کر دیا ہے۔

بورژوا طبقے نے ہر اس پیشے کی عظمت چھین لی جس کی اب تک عزت ہوتی آئی تھی اور جس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے طبیب ، وکیل ، مذہبی پیشوا ، شاعر ، اہل علم سب کو اپنا تنخواہ دار، اجرت پر کام کرنے والا مزدور بنا دیا ہے۔

 بورژوا طبقے نے خاندانی رشتوں کی دلگداز جذبات پرستی کا نقاب چاک کر دیا ہے اور ان کو محض روپے آنے پائی کا رشتہ بنا کر رکھ دیاہے۔

 بورژوا طبقے نے یہ راز فاش کر دیا کہ عہد وسطی میں اپنے کس بل کی وحشیانہ نمائش کا، جس کے رجعت پرست اس قدر دل دادہ ہیں، اور سخت کاہلی اور عیش پرستی کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ وہ پہلا طبقہ ہے جس نے دکھا دیا کہ انسان کار گذاری کیا کچھ کر سکتی ہے۔ اس نے وہ عجائبات پیش کئے جن کے مقابلے میں مصر کے اہرام، روم کی نہریں اور گاتھی نمونے کے شاندار گرجے ہیچ ہیں ۔ اس نے وہ وہ مہمیں سر کی ہیں جن کے سامنے تمام اگلے زمانوں کی قوموں کی مہمیں اور صلیبی جنگیں مات ہیں۔

بورژوا طبقہ آلات پیداوار میں اور ان کی وجہ سے تعلقات پیداوار میں اور ان کے ساتھ سماج کے سارے تعلقات میں لگاتار انقلابی الٹ پلٹ کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کے برعکس پیداوار کے پرانے طریقوں کو بلاکسی ردوبدل کے جوں کے توں قائم رکھتا، پہلے زمانے کے تمام صنعتی طبقوں کے بقا کی پہلی شرط تھی۔ پیداوار میں پیہم انقلابی الٹ پلٹ ، جملہ سماجی تعلقات میں لگاتار خلل، دائمی عدم استحکام اور ہلچل، بورژوای کے عہد کو پہلے کے تمام زمانوں سے ممتاز کر تی ہیں۔ تمام دیرینہ تعلقات جو پتھر کی لیکر بن چکے تھے، اپنے قدیم اور لائق احترام تعصبات اور عقیدوں کے لاؤ لشکر سمیت نیست ونابود ہو گئے اور نئے قائم ہونے والے تعلقات جڑ پکڑنے بھی نہیں پاتے کہ فرسودہ ہو جاتے ہیں۔ کل تک جو ٹھوس تھا، آج ہو اہو گیا۔ جو پاک تھا وہ نجس ہے۔ اور انسان آخر کار مجبور ہواکہ اپنی زندگی کی حقیقتوں کا اور اپنے ہم جنسوں کے ساتھ اپنے تعلقات ک پورے ہوش و حواس کے ساتھ جائزہ لے۔

 اپنے مال کے لئے منڈی کو برابر بڑھاتے رہنے کی ضرورت بورژوا طبقے سے سارے جہان کی خاک چھنواتی ہے۔ اسے ہر شاخ پر آشیانہ بنانا پڑتا ہے۔ ہر جگہ گھر بسانا پڑتا ہے۔ ہر جگہ تعلقات قائم کرنے ہوتے ہیں۔

 بورژوا طبقے نے عالم گیر منڈی کے استحصال کے ذریعہ ہر ملک میں پیداوار اور کھپت کو آفاقی رنگ دیا ہے۔ رجعت پرست سخت خفا ہیں کہ صنعت جس قومی بنیاد پر کھڑی تھی۔ وہ زمین اس کے پاؤں تلے سے نکل گئی۔ پہلے سے چلی آنے والی تمام قومی صنعتیں تباہ کر دی گئیں یا دن بدن تباہ ہوتی جارہی ہیں ۔ نئی صنعتیں ان کی جگہ لے رہی ہیں جن کو رائج کرنا تمام مہذب قوموں کے لئے زندگی اور موت ک سوال بنتا جا رہا ہے۔ یہ وہ صنعتیں ہیں جن میں اپنے دیس کا کچا مال استعمال نہیں ہوتا بلکہ دور دور کے علاقوں سے کچا مال آتا ہے۔ ان صنعتوں کی پیداوار کی کھپت صرف اپنے ملک میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر گوشے میں ہوتی ہے۔ پرانی ضرورتوں کی جگہ جو اپنے ملک کی پیداوار سے پوری ہو جایا کرتی تھیں، اب نئی ضرورتیں پیداہو گئی ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے دور دراز کے ملکوں اور علاقوں کا مال چاہئے۔ پرانی مقامی اورقومی علحدگی اور خود کفالتی کے بدلے اب ہر طرف باہمی اشتراک کا دور دورہ ہے اور قوموں کی ایک دوسرے سے عالم گیر وابستگی دیکھنے میں آتی ہے۔ مادی پیداوار کاجو حال ہے وہی ذہنی پیداوار کا بھی ہے۔ ہر قوم کے ذہنی کارنامے ساری دنیا کی میراث بنتے جارہے ہیں۔ قومی یک طرفہ پن اور تنگ نظری دن بدن ناممکن ہوتی جارہی ہے اور متعد د قومی اور مقامی ادب سے مل کر ایک عالم گیر ادب جنم لے رہا ہے۔

بورژوا طبقہ تمام آلات پیداوار کو تیزی سے ترقی دیتا اور آمدورفت کے وسیلوں کو بے حد آسان بناتا رہتا ہے اور ان کے بل پر وہ تمام قوموں کو حتیٰ کہ انتہائی وحشی قوموں کو بھی تہذیب کے دائرے میں کھینچ لاتا ہے۔ اس کے تجارتی مال کی ارزانی گولے بارود کا کام کر تی ہے جن سے مار مار کر وہ ہر دیوار چین کو گرا دیتا ہے اور ضدی سے ضدی وحشیوں کو جن کے دل سے غیروں کی نفرت کا جذبہ مارے نہیں مرتا، ہار ماننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ تمام قوموں کو مجبور کرت ہے کہ بورژوا طریقہ پیداوار اختیار کریں یا فنا ہو جائیں ۔ وہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی اس کی منہ بولی تہذیب کو اپنے یہا ں رائج کریں یعنی وہ خود بھی بورژوا بنیں ۔ محتصر یہ کہ وہ اپنے سانچے میں ایک دنیا کو ڈھال لیتا ہے۔

بورژوا طبقے نے دیہات کو شہروں کے تابع کر دیا ہے۔ اس نے بڑے بڑے شہر بسائے ہیں۔ دیہات کے مقابلے میں شہری آبادی کو بہت بڑھا دیا ہے اور اس طرح آبادی کے ایک بڑے حصے کو دیہاتی زندگی کے گھامڑپن سے چھٹکارا دلایا ہے۔ جس طرح اس نے دیہات کو شہروں کا دست نگر بنایا، اسی طرح غیر مہذب اور نیم مہذب ملکوں کو مہذب ملکوں کا، کسانوں کی قوموں کو بورژوا قوموں کا، مشرق کو مغرب کا محتاج بنایا۔

بورژوا طبقے ذرائع پیداوار ملکیت اور آبادی کی تتر بتر حالت کو دن بدن ختم کرتا جارہا ہے۔ اس نے کثیر آبادیوں کو اکٹھا کیا ہے۔ ذرائع پیداوار کو مرکزیت بخشی ہے اور ملکیت کو چند ہاتھوں میں بٹور لیا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ سیاسی مرکز یت تھا۔ صوبے جو آزاد تھے یا جن میں کوئی واضح تعلق نہیں تھا، جن کے مفاد، قانون، حکومتیں اور محصول کے طریقے الگ الگ تھے، اب مل کر ایک قوم بن گئے ہیں، جس کی ایک حکومت ہے، قانون کا ایک ہی ضابطہ ہے، ایک قومی طبقاتی مفاد ہے، ایک سرحد اور ایک کسٹم ڈیوٹی ہے۔

بورژواطبقے نے اپنے یہ مشکل ایک سو برس کے دور حکومت میں اتنی بڑی اور دیوپیکر پیداواری قوتیں تخلیق کر لی ہیں کہ پچھلی تمام نسلیں مل کر بھی نہ کر سکی تھیں ۔ قدرت کی طاقتوں پر انسان کی کارفرمائی، مشینیں، صنعت اور زراعت میں کیمیا کا استعمال، دخانی جہاز رانی، ریلیں، تار برقی، کھیتی کے لئے پورے کے پورے براعظموں کی صفائی، نہریں بنا کر دریاؤں کو ملانا اور گویا جادو کے زور سے زمین کا سینہ چیر کر چشم زدن میں بڑی بڑی آبادیوں کا ظہور میں آجانا _ آج سے پہلے کس زمانے کے لوگوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ اجتماعی محنت کی گود میں ایسی ایسی پیداواری طاقتیں پڑی سورہی ہیں؟

چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیداوار اور تبادلہ کے وسیلے، جن کی بنیاد پر بورژو طبقے نے اپنے آپ کو بنا یا، جاگیردار سماج میں پیدا ہوئے تھے۔ پیداوار اور تبادلہ کے ان وسیلوں کی نشوونما میں ایک منزل ایسی آئی کہ جاگیردار سماج کے حالات میں جن میں مال کی پیداوار اور اس کا تبادلہ ہوتا تھا، زراعت اور کارخانہ داری صنعت کی جاگیردار تنظیم کے اند ر، مختصر یہ کہ ملکیت کے جاگیردار رشتوں سے اب بڑھی ہوئی پیداواری قوتوں کا نباہ ناممکن ہو گیا۔ یہ رشتے ان قوموں کے پیروں کی زنجیر بن گئے ۔ ان زنجیروں کو توڑنا تھا۔ ان کو توڑ دیا گیا۔

اب آزاد مقابلے نے ان کی جگہ لے لی، اور اپنے حسب حال ایک سماجی اور سیاسی نظام اور بورژواطبقے اور سیاسی اقتدار بھی ساتھ لیتا آیا۔

اسی قسم کی ایک تبدیلی خود ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے۔ جدید بورژو سماج نے گویا جادو کے زور سے پیداوار اور تبادلے کے عظیم الشان وسیلے کھڑے کر لئے ہیں۔ مگر پیداوار تبادلہ اور ملکیت کے اپنے رشتوں سمیت اس سماج کی حالت اس شعبدہ گر کی سی ہے جس نے اپنے جادو سے شیطانی طاقتوں کو جگا تو لیا ہے مگر اب قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ پچھلے بیسیوں بر س سے صنعت اور تجارت کی تاریخ،جدید پیداواری قوتوں کی بغاوت کی تاریخ ہے، بغاوت جدید تعلقات پیداوار کے خلاف اور ملکیت کے ان رشتوں کے خلاف جو بورژوا طبقے اور اس کے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں ان تجارتی بحرانوں کا ہی نام لین کافی ہے جو برابر کچھ وقفے کے بعد لوٹ کر آیا کرتے ہیں اور پورے بورژواسماج کی زندگی کو ہر بار پہلے سے بھی بڑے خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان بحرانوں میں ہر بار صرف تیار مال کا ہی نہیں بلکہ پہلے کی بھی ہوئی پیداواری قوتوں کا بھی ایک بڑا حصہ برباد کر دیا جاتا ہے۔ ان بحرانوں میں گویا ایک وبا سی پھیل ج تی ہے، فاضل پیداوار کی وبا ،جو پہلے کے تمام زمانوں میں ایک ان ہونی سی بات معلوم ہوتی۔ سماج دفعتا اپنے آپ کو کچھ دنوں کے لئے بربریت کے عالم میں پات ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے قحط یا عالم گیر جنگ کی تباہ کاریوں نے تمام وسائل حیات کے دروازے بند کر دئے ہوں۔ صنعت و تجارت برباد ہوتی نظر آتی ہے۔ او ر یہ کیوں ؟اس لئے کے تمدن کی برکتوں کی افراط ہے۔ زندگی کے وسائل کی افراط ہے، صنعت کی افراط ہے، تجارت کی افراط ہے ۔ سماج کے ہاتھ میں جو پیداواری قوتیں ہیں ان سے اب بورژوا ملکیت کے نظام کی مزید ترقی میں کوئی مدد نہیں ملتی بلکہ اس کے برعکس وہ اتنی طاقتور ہو گئی ہیں کہ اس نظام کے سنبھالے نہیں سنبھلتیں ۔ یہ نظام ان کے پیروں کی زنجیر بن جاتاہے اور جوں ہی کہ وہ ان زنجیروں پر قابو پاتی ہیں پورے بورژوا سماج میں خلل پڑ جاتا ہے۔ بورژوا ملکیت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ بورژوا تعلقات کا دامن اتنا تنگ ہے کہ وہ خود اپنی پیدا کی ہوئی دولت بھی نہیں سنبھال سکتا۔ پھر بورژوا طبقہ ان بحرانوں پر قابو کیسے پاتا ہے؟ اس کے لئے ایک طرف نئی منڈیوں پر قبضہ کیا جاتا ہے اور پرانی منڈیوں کا استحصال اور بھی زیادہ شدت سے کیا جاتا ہے۔ یعنی اور بھی زیادہ وسیع اور تباہ کن بحرانوں کے لئے راستہ صاف کیا جاتا ہے اور ان بحرانوں کو روکنے کے وسیلے اور کم کر دئے جاتے ہیں۔

وہ ہتھیار جن سے بورژوا طبقے نے جاگیر دار نظام کو زیر کیا تھا، اب خود بورژوا طبقے کے خلاف اٹھائے جا رہے ہیں۔

 لیکن بورژوا طبقے نے صرف وہ ہتھیار ہی نہیں ڈھالے جو اس کی موت ک پیغام لا رہے ہیں، وہ ان آدمیوں کو بھی وجود میں لے آیا ہے جو یہ ہتھیار اٹھائیں گے، یعنی پرولتاریہ، جدید مزدور طبقہ۔

جس نسبت سے بورژوا طبقے یعنی سرمائے کی ترقی ہوتی ہے اسی نسبت سے پرولتاریہ یعنی جدید مزدور طبقہ ترقی کرتا ہے جو زندہ اسی وقت تک رہ سکتا ہے جب تک اسے کام ملتا رہے اور کا م اسی وقت تک ملتا ہے جب تک اس کی محنت سرمایہ کو بڑہاتی ہے۔ یہ مزدور جنہیں اپنے آپ کو فرداً فردا ًکرکے بیچنا پڑتا ہے، تجارت کی اور سب چیزوں کی طرح ایک جنس تبادلہ ہیں ۔ لہٰذایہ بھی مقابلے کے تمام ہیر پھیر اور منڈی کی تمام اتار چڑھاؤ کے رحم و کرم پر ہیں۔

مشینوں کے وسیع استعمال اور محنت کی تقسیم کی وجہ سے مزدوروں کا کام اپنی تمام انفرادی خصوصیت کھو چکا ہے اور اسی وجہ سے مزدور کے لئے اس میں کوئی د ل کشی باقی نہیں رہی ۔ وہ مشین کا دم چھلا بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کو اب صرف ایک ڈھب جاننا چاہیے جو نہایت سیدھی سادی ،نہایت اکتا دینے والی اور نہایت آسانی سے آنے والی چیز ہے ۔ چناچہ مزدور پر لاگت تقریبا تمام تر ان وسائل زندگی تک محدود ہے جو اس کے اپنے گذارے اور افزائش نسل کے لئے ضروری ہیں۔ لیکن کسی جنس کی قیمت اور اس لئے محنت کی قیمت بھی اس کی پیداوار کی لاگت کے برابر ہے۔ اس لئے کام جتنا زیادہ نا پسند یدہ ہوتا جاتا ہے اسی نسبت سے اجرت میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ جس نسبت سے مشینوں کا استحصال اور محنت کی تقسیم پڑھتی ہے، اسی نسبت سے مشقت کا بوجھ بڑھتا ہے ۔ چاہے وہ کام کے گھنٹے بڑھنے سے ہو، مقررہ وقت میں زیادہ کام لینے کی وجہ سے ہو یا مشین کی رقتار تیز ہو جانے سے۔

جدید صنعت نے اہل حرفہ کے چھوٹے کارخانے کو صنعتی سرمایہ دار کی بڑی فیکڑی میں بدل دیا ہے ۔ مزدوروں کے کثیر انبوہ کو فیکٹری میں جمع کر کے فوجی سپاہیوں کی طرح ان کی تنظیم کی ہے ۔ افسروں اور حولداروں کا ایک پورا سلسلہ ہے جن کی کمان میں انہیں صنعتی فوج کے عام سپاہیوں کی طرح رکھا گیا ہے۔ وہ صرف بورژوا طبقے اور بورژوا ریاست کے غلام نہیں ہیں، وہ ہر دن اور ہر گھڑی مشین کی، نگران کار کی اور سب سے بڑھ کر انفرادی طور پر کارخانے کے مالک بورژوا کی غلامی کرنے ہیں ۔ یہ ظالمانہ نظام جس قدر کھلے بندوں نفع خوری کو اپنی غرض و غایت بناتا ہے، اسی قدر ذلیل قابل نفرت اور تلخ تر ہوتا جاتا ہے۔

جسمانی محنت میں مہارت اور طاقت صرف کرنے کی ضرروت جس قدر کم ہوتی جاتی ہے یعنی دوسرے لفظوں میں جدید صنعت جتنی زیادہ ترقی کرتی ہے اسی قدر عورتوں ک کام مردوں کی جگہ لیتا ہے۔ مزدور طبقے کے لئے عمر اور جنس کی بنا پر امتیاز قائم کرنے کا اب کوئی سماجی جواز باقی نہیں رہا۔ سب محنت کے آلہ کار ہیں جن کی قیمت ان کی عمر اور جنس کے لحاظ سے بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔ جوں ہی کارخانہ دار کے ہاتھوں مزدور کا استحصال کچھ دیر کے لئے رکتا ہے اور اسے اپنی اجرت کے نقد پیسے ملتے ہیں، ویسے ہی بورژوا طبقے کے دوسرے حصے مالک مکان، دوکاندار، ساہوکا ر وغیرہ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

 درمیانی طبقے کے نچلے حصے چھوٹے کارخانہ دار، چھوٹے تاجر اور عموم کاروبار چھوڑ بیٹھنے والے تاجر، دست کار اور کسان یہ سب گرتے گرتے پرولتاریہ میں جا ملتے ہیں ۔ کچھ تو اس وجہ سے کہ جس پیمانے پر جدید صنعت چلائی جاتی ہے اس کے لئے ان کا حقیر سرمایہ کفایت نہیں کرتا اور بڑے سرمایہ داروں کے مقابلے میں ان کی لٹیا ڈوب جاتی ہے۔ اور کچھ اس وجہ سے کہ ان کا مخصوص ہنر اب پیدوار کے نئے طریقوں کی بدولت کسی کام کا باقی نہیں رہتا۔ اس طرح آبادی کے ہر طبقے سے لوگ بھرتی ہو کر پرولتاریہ میں آتے رہتے ہیں۔

 مزدور طبقہ نشوونما کی کئی منزلوں سے گذرتا ہے۔ پیدا ہوتے ہی بورژو طبقے سے اس کی جدوجہد شروع ہو جاتی ہے۔ شروع شروع میں کسی ایک بورژوا کے خلاف جو براہ راست ان کا استحصال کرتا ہے، اکے دکے مزدور مقابلے پر اترتے ہیں ۔ پھر ایک فیکٹری میں کام کرنے والے اور اس کے بعد ایک علاقے میں ایک پوری صنعت کے مزدور ۔ ان کے حملے کا رخ صرف بورژوا تعلقات پیداوار کے خلاف نہیں بلکہ خود آلات پیداوار کے خلاف ہوتا ہے۔ وہ باہر سے آئی ہوئی مصنوعات کو جو ان کی محنت سے مقابلہ کرتی ہیں، برباد کرنے لگتے ہیں ۔ وہ مشینوں کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔ کارخانوں میں آگ لگا دیتے ہیں۔ اور عہد وسطی کے کاریگروں کے کھوئے ہوئے مرتبے کو زبردستی لوٹا لانا چاہتے ہیں۔

اس وقت مزدور تتر بتر بھیٹر کی حالت میں سارے ملک میں بکھرے ہوتے ہیں۔ آپس کے مقابلے سے ان کا شیرازہ منتشر رہتا ہے۔ اگر کہیں کہیں وہ مل کر زیادہ گٹھی ہوئی جماعت بناتے ہیں تو یہ ابھی تک ان کے اپنے عملی اتحاد کا نتیجہ نہیں بلکہ بورژوا طبقے کے اتحاد کا نتیجہ ہے ۔ یہ طبقہ خود اپنا سیاسی مقصد پور کرنے کے لئے مجبور ہوتا ہے کہ پورے مزدور طبقے کو حرکت میں لائے اور اس میں اس وقت تک ایسا کرنے کی قدرت بھی ہوتی ہے۔ اس لئے اس مرحلے پر مزدور طبقہ اپنے دشمنوں سے نہیں بلکہ اپنے دشمنوں کے دشمنوں سے _ مطلق العنان بادشاہت کی بچی کچی نشانیوں سے، زمین داروں سے غیر صنعتی بورژوا اور پیٹی بورژوا طبقے سے لڑتا ہے۔ غرضیکہ تاریخ کی ساری حرکت کی باگ ڈور بورژوا طبقے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔اور ان حالات میں جو فتح حاصل ہوتی ہے وہ بورژوا طبقے کی فتح ہوتی ہے۔

لیکن صنعت کی ترقی کے ساتھ مزدور طبقہ صرف تعداد میں ہی نہیں بڑھتا بلکہ وہ بڑی سے بڑی تعداد میں مرکوز ہونے لگتا ہے اس کی طاقت بڑھتی ہے اور اسے روز برو ز اپنی طاقت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جیسے جیسے مشین محنت کے تمام امتیازوں کو مٹاتی جاتی ہے اور تقریبا ہر جگہ اجرتوں کو ایک ہر ادنی سطح پر لے آتی ہے، اسی نسبت سے مزدور طبقے کی صفوں کے اندر مختلف مفاد اور زندگی کی مختلف حالتوں میں یکسانیت پیدا ہوتی ہے۔ بورژوا طبقے میں بڑھتا ہوا مقابلہ اور اس کی بدولت تجارتی بحران مزدوروں کی اجرتوں میں آئے دن اتار چڑھاؤ پید کرتے رہتے ہیں ۔مشینوں میں نت نئے سدہار اور ان کی تیز سے تیز تر ترقی کی وجہ سے مزدوروں کی روزی دن بدن خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اکے دکے مزدوروں اور بورژو لوگوں کی جھڑپیں روز برو ز دو طبقوں کی ٹکر کی صورت اختیار کرتی جاتی ہیں اور تب بورژوازی کے خلاف مزدور اپنی انجمنیں ( ٹریڈ یونینیں ) بنانے لگتے ہیں۔ اجرت کی شرح کو قائم رکھنے کے لئے وہ آپس میں مل جاتے ہیں۔ اپنی وقتی بغاوتوں کے لئے پہلے سے بندوبست کرنے کی غرض سے وہ مستقل انجمنیں قائم کرتے ہیں۔ کہیں کہیں یہ ٹکر کھلی بغاوت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

کبھی کبھار مزدوروں کی جیت ہوتی ہے مگر چند روزہ ان کی جدوجہد کا اصلی پھل فوری کامیابیوں میں نہیں بلکہ مزدوروں کے دن بدن بڑھتے ہوئے اتحاد میں ہے۔ اس اتحاد کو آمدورفت کے ان ترقی یافتہ وسیلوں سے بڑی مدد ملتی ہے جنہیں جدید صنعت نے جنم دیا ہے اور جن کی مدد سے مختلف جگہوں کے مزدور وں میں ربط پید ہوتا ہے۔ اور وہی ربط ہے جس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تاکہ تمام مقامی جدوجہد جس کی نوعیت سب جگہ ایک سی ہے ایک مرکز پر لائی جا سکے۔ لیکن ہر طبقاتی جدوجہد ایک سیاسی جدوجہد ہے۔ اور وہ اتحاد جسے حاصل کرنے کے لئے عہد وسطی کے شہریوں کو اپنی خستہ حال شاہراہوں کی وجہ سے صدیاں درکار تھیں، جدید مزدو ر طبقے نے ریلوں کی برکت سے چند برسوں میں قائم کر لیا ہے۔

ایک طبقے کی صورت میں اور اس کے نتیجے کے طور پر ایک سیاسی پارٹی میں مزدور طبقے کی یہ تنظیم خود مزدوروں کے آپس کے مقابلے کی بدولت برابر الٹتی رہتی ہے۔ لیکن ہر بار وہ پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ پائیدار اور زیادہ طاقتور ہو کر اٹھ کر کھڑی ہوتی ہے اور خود بورژوا طبقے کے اندر کی پھوٹ سے فائدہ اٹھ کر وہ مزدوروں کے انفرادی مفاد قانون کی نظر میں تسلیم کر لیتی ہے۔ چناچہ انگلینڈ میں دس گھنٹے کام کا قانونی اسی طرح منظور ہو اتھا۔

فی الجملہ پرانے سماج کے طبقوں کی آپس کی ٹکریں مزدور طبقے کی نشوونما میں کئی طرح سے مدد گار ہوتی ہیں۔ بورژواطبقہ اپنے آپ کو مسلسل جدوجہد میں مبتل پاتا ہے۔ شروع میں طبقہ امرا کے خلاف پھر بورژوا طبقے کے ان حصوں کے خلاف جن کی مفا د صنعت کی ترقی سے ٹکرانے لگتے ہیں اور ساری بدیسی بورژوازی کے خلاف تو ہر زمانے میں۔ ان سب لڑائیوں میں وہ مجبور ہوتا ہے کہ مزدور طبقے سے اپیل کرے، اس سے مدد مانگے اور اس طرح اسے سیاست کے میدان مین کھینچ لائے۔ غرضیکہ خود بورژوا طبقہ پرولتاریہ کو اپنی سیاسی اور عام تعلیم کی مبادیات سے لیس کرتا ہے۔ درسرے لفظوں میں وہ خود پرولتاریہ کے ہاتھوں میں بورژوا طبقے سے لڑنے کے ہتھیار دیتا ہے۔

پھر ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ صنعت کی ترقی سے حکمران طبقوں کے بعض پورے کے پورے گروہ تبا ہ ہو کر مزدور طبقے میں آملتے ہیں۔ یا کم از کم ان کے حالات زندگی کے تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان سے بھی مزدور طبقے کو روشن خیالی اور ترقی کی نئی مبادیات ملتی ہیں۔

بالاخر جب طبقاتی جدوجہد کے فیصلہ کن لمحے قریب آتے ہیں تو حکمران طبقے کی اند ر اور دراصل پورے پرانے سماج کے اند ر انتشار کا یہ سلسلہ اتنی شدید اور نمایاں صورت اختیار کر لیتا ہے کہ حکمران طبقے کا ایک مختصر گروہ اس سے ٹوٹ کر الگ ہو جاتا ہے اور انقلابی طبقے میں آملتا ہے۔ اس طبقے میں جس کے ہاتھ میں مستقبل کی باگ ڈور ہے۔ جس طرح اس سے پہلے دور میں طبقہ امرا کا ایک حصہ بورژوا طبقے سے آملا تھا اسی طرح آج بورژوا طبقے کا ایک حصہ پرولتاری طبقے ک ساتھ اختیار کرتا ہے اور خاص کر بورژوا اہل فکر کا وہ حصہ جو اس بلندی پر پہنچ گیا ہے کہ بحیثیت مجموعی پورے تاریخی ارتقا کو نظریاتی طور سے سمجھ سکے۔

بورژوا طبقے کے روبرو اس وقت جتنے طبقے کھڑے ہیں ان سب میں ایک پرولتاریہ ہی حقیقت میں انقلابی ہے۔ دوسرے طبقے جدید صنعت کے مقابلے میں زوال پذیر اور بالا خر ناپید ہوتے جاتے ہیں۔ پرولتاریہ اس کی مخصوص اور لازمی پیداوار ہے۔

درمیانی پرت: چھوٹے کارخانہ دار دکاندار دست کار کسان سب ہی بورژوا طبقے سے لڑتے ہیں تاکہ درمیانی پر ت کی حیثیت سے اپنی ہستی کو مٹنے سے بچائیں۔ اس لئے وہ انقلابی نہیں قدامت پرست ہیں۔ اتنا ہی نہیں وہ رجعت پرست بھی ہیں۔ کیونکہ وہ تاریخ کی گنگا کو الٹا بہانا چاہتے ہیں۔ اگر کبھی وہ انقلابی بنتے ہیں تو صر ف یہی دیکھ کر کہ ان کے لئے پرولتاریہ کے ساتھ ملنے کی گھڑی قریب آپہنچی ہے کہ وہ اپنے حال کے نہیں مستقبل کے مفاد کی حفاظت کرتے ہیں۔کہ پرولتاریہ کے نقطہ نظر پر پہنچنے کے لئے خود اپنے نقطہ نظر سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ وہ Lumpen-Proletariat وہ پڑی پڑی سڑنے والی پیداوار جسے پرانے سماج کی سب سے نچلی تہیں چھوڑ گئی ہیں، کہیں کہیں پرولتاری انقلاب کی تحریک کے بہاؤ میں آجائے۔ لیکن اس کی زندگی کے حالات ایسے ہیں کہ اس میں رجعت پرستوں کی سانٹھ گانٹھ میں بھاڑے کا ٹٹو بننے کی رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

پرولتاریہ کے حالات زندگی میں پرانے سماج کے حالات زندگی ختم ہو جاتے ہیں۔ پرولتاری کی کوئی ملکیت نہیں۔ اپنے بیوی بچوں سے اس کے تعلقات میں اور بورژو خانگی زندگی میں اب کوئی چیز مشترک نہیں رہتی۔ جدید صنعتی محنت نے، سرمائے کی جدید غلامی نے، جو انگلینڈ اور فرانس میں امریکہ اور جرمنی میں سب جگہ ایک ہے، اس سے قومی کردار کی ہر نشانی چھین لی ہے ۔ قانون اخلاق مذہب سب اس کے لئے بورژوا طبقے کے ڈھکو سلے سے زیادہ نہیں ہیں جن میں ایک ایک کے پیچھے بورژوا مفاد گھات لگائے بیٹھے ہیں۔

پہلے کے تمام طبقوں نے جب کبھی غلبہ پایا تو اپنے حاصل کئے ہوئے مرتبے کو پائیدار بنانے کے لئے پورے سماج کو اپنے نظام تصرف کے تابع کر دینا چاہا۔ پرولتاری جب تک خود اپنے سابقہ طریقہ تصرف کو اور اس طرح تصرف کے ہر سابقہ طریقے کو منسوخ نہ کر ڈالے سماج کی پیداواری قوتوں کا مالک نہیں بن سکتا ۔ اس کا اپنا کچھ نہیں جسے قائم رکھنا ہو اور جس کی حفاظت کرنی ہو ۔ اس کا منصب ذاتی ملکیت کے جملہ سابقہ تحفظات اور ضمانتوں کو مٹانا ہے۔

پہلے کی تمام تاریخی تحریکیں اقلیتوں کی تحریکیں تھیں یا اقلیتوں کے حق میں تھیں۔ مزدور تحریک بہت بڑی اکثریت کے حق میں، بہت بڑی اکثریت کے مفادات کے لئے آزاد تحریک ہے۔ پرولتاریہ موجودہ سماج میں سب سے نیچے درجے پر ہے اور جب تک مروجہ سماج کے بالائی پرتوں کے تمام تاروپود نہ بکھیر دئے جائیں وہ نہ تو جنبش کر سکتا ہے اور نہ سر اٹھا سکتا ہے۔

بورژوا طبقے کے خلاف پرولتاریہ کی جدوجہد معنوی اعتبار سے تو نہیں، مگر اپنی صورت میں شروع شروع میں ایک قومی جدوجہد ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر ملک کے پرولتاریہ کو سب سے پہلے اپنے ہی بورژوا طبقے سے نبٹنا پڑتا ہے۔

پرولتاریہ کی نشوونما کے بالکل عام مدارج بیان کرتے ہوئے ہم نے اس خانہ جنگی کا خاکہ کھینچا تھا جو موجودہ سماج کسی قدر پوشیدہ طور پر زور و شور سے جاری ہے۔ حتی کہ ایک منزل اپنی آتی ہے جبکہ یہ جنگ کھلم کھلا انقلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور بورژوا طبقے کا تختہ زبردستی الٹ کر پرولتاریہ کے اقتدار کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

ہم نے دیکھا کہ آج تک ہر سماج کی بنیاد ظالم اور مظلوم طبقوں کے تصادم پر رہی ہے۔ لیکن کسی طبقے پر ظلم کرنے کے لئے بھی ایسے حالات مہیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جن میں طبقہ کم از کم اپنی غلامانہ زندگی کو برقرار رکھ سکے۔ زرعی غلامی کے زمانے میں زرعی غلام بڑھتے بڑھتے کمیون کا رکن بنا ۔ ٹھیک اسی طرح جیسے پیٹی بورژوا آدمی جاگیردارانہ مطلق العنانی کے جوئے تلے ترقی کرکے بورژوا بن گیا۔ اس کے برعکس جدید مزدور صنعت کے فروغ کے ساتھ اوپر اٹھنے کے بجائے اپنے طبقے کے موجودہ معیار زندگی سے بھی نیچے گرتا جارہا ہے۔ وہ نادار ہوتا جارہا ہے اور ناداری آبادی اور دولت دونوں سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔ اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بورژوا طبقہ اب اس قابل نہیں رہا کہ سماج پر حکمرانی کر سکے اور اپنے طبقے کے حالات زندگی کوہمہ گیر قانون کا درجہ دے کر پورے سماج پر چسپاں کر سکے ۔ وہ حکومت کرنے کا اہل نہیں رہا کیونکہ وہ اپنے غلاموں کو اپنی غلامی میں بھی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا کیونکہ وہ انہیں اس قدر نیچے گرنے سے نہیں ورک سکتا کہ بجائے خود ان سے روزی حاصل کرنے کے اسے خود انہیں روٹی دینی پڑتی ہے۔ سماج اب اس بورژوا طبقے کے تحت نہیں وہ سکتا۔ دوسرے لفظوں میں اب اس کے وجود کو سماج کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں رہی۔

بورژوا طبقے کے وجود اور اقتدار کی لازمی شرط یہ ہے کہ سرمایہ برابر بنتا اور بڑھتا رہے۔ سرمائے کے وجود کے لئے اجرتی محنت شرط ہے۔ اجرتی محنت خصوصاً تمام مزدوروں کے آپس کے مقابلے پر منحصر ہے۔ صنعت کی ترقی سے جس کو بورژوا طبقے کے ہاتھوں بلا ارادہ فروغ ہوتا ہے۔ مزدوروں کی ایک دوسرے سے علیحدگی دور ہوتی ہے۔ جو باہمی مقابلے کا نتیجہ تھی اور اس کے بجائے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ان میں انقلابی ایکا پیدا ہونے لگتا ہے۔ غرضیکہ جدید صنعت کی ترقی سے وہ بنیاد ہی غارت ہو جاتی ہے جس پر بورژوا طبقہ مال پیدا کرتا اور اس کو تصرف میں لاتا ہے۔ لہٰذابورژوا طبقے نے سب سے بڑھ کر جن کو پیدا کیا وہ اس کی اپنی قبر کھودنے والے ہیں۔ اس کا زوال اور پرولتاریہ کی فتح لابدی ہے۔

2۔ پرولتاریہ اور کمیونسٹ

بحیثیت مجموعی پرولتاریوں سے کمیونسٹوں کا کیا تعلق ہے؟

کمیونسٹ، مزدور طبقے کی دوسری پارٹیوں کے خلاف کوئی الگ پارٹی نہیں بناتے۔

بحیثیت مجموعی پرولتاری طبقے کے مفاد کے سوا اور اس سے جدا ان کا کوئی مفاد نہیں۔

وہ اپنے جداگانہ فرقہ پرور اصول قائم نہیں کرتے جس سے مزدور تحریک کو کوئی خاص شکل دی جائے اور کسی خاص سانچے میں ڈھالا جائے۔

کمیونسٹوں کا امتیاز مزدور طبقے کی دوسری پارٹیوں سے صرف یہ ہے کہ (۱) مختلف ملکوں کے مزدوروں کی قومی جدو جہد میں وہ بلا امتیاز قومیت پورے مزدور طبقے کے مشترک مفاد پر زور دیتے اور ان کو نمایاں کرتے ہیں۔ (۲) بورژوا طبقے کے خلاف مزدورطبقے کی جدوجہد اپنی نشوونما کے جن مرحلوں سے گذرتی ہے ان میں وہ ہر جگہ اور ہمیشہ بحیثیت پوری تحریک کے مفاد کی ترجمانی کرتے ہیں۔

چناچہ ایک طرف جہاں تک عمل کا تعلق ہے، کمیونسٹ ہر ملک کی مزدور پارٹیوں میں سب سے اگوا اور ثابت قدم دستہ ہیں، وہ دستہ جو ہمیشہ اوروں کو آگے بڑھات چلتا ہے، اور دوسری طرف جہاں تک نظریے کا تعلق ہے، عام مزدوروں پر ان کو فوقیت یہ ہے کہ وہ مزدور تحریک کا آگے بڑھنے کا راستہ پہچانتے ہیں ۔ اس کے حالات اور آخری عام نتیجوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

کمیونسٹو ں کا فوری مقصد وہی ہے جو مزدوروں کی سب ہی دوسری پارٹیوں کا یعنی یہ کہ مزدوروں کا ایک طبقہ بنے، بورژوا طبقے کا غلبہ ختم کیا جائے او ر پرولتاریہ سیاسی اقتدار پر قبضہ کرے۔

کمیونسٹوں کے نظریاتی نتیجے ہرگز کسی ایسے خیالات یااصولوں پر مبنی نہیں ہیں جنہیں کسی عالم گیر اصلاح کا خواب دیکھنے والے مصلح نے کھوج نکالا ہو یا جو اس کے دماغ کی اپج ہوں۔

وہ تو فقط ان حقیقی تعلقات کو عام الفاظ میں پیش کرتے ہیں جو موجود ہ طبقاتی جدوجہد سے پیدا ہوئے ہیں، ایک ایسی تاریخی تحریک سے جو ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے۔ ملکیت کے مروجہ تعلقات کو مٹانا کمیونزم کی کوئی امتیازی صفت نہیں ہے۔

گذشتہ زمانے میں تاریخی حالات کے بدلنے پر ملکیت کے سارے تعلقات میں برابر تاریخی رد بدل ہوتا رہا ہے۔

مثلا انقلاب فرانس نے بورژوا ملکیت کے حق میں جاگیر دار ملکیت کو مٹا دیا۔

کمیونزم کی امتیازی صفت عام طور پر ملکیت کو نہیں بلکہ بورژوا ملکیت کو مٹان ہے۔ لیکن جدید بورژوا ذاتی ملکیت مال کو پیدا کرنے اور تصرف میں لانے کے اس نظام کا آخری اور سب سے مکمل اظہار ہے جو طبقاتی اختلافات اور چند لوگوں کے ہاتھوں اکثریت کے استحصال پر مبنی ہے۔

ان معنوں میں کہا جا سکتا ہے کہ کمیونسٹوں کا نظریہ مختصر لفظوں میں ذاتی ملکیت کو مٹانا ہے۔

ہم کمیونسٹوں پر الزام ہے کہ ہم انسان کی نجی محنت سے انفرادی ملکیت حاصل کرنے کا حق چھین لینا چاہتے ہیں، حالانکہ کہا جاتا ہے کہ یہی ملکیت تمام شخصی آزادی سر گرمی اور خود مختاری کی بنیاد ہے۔

گاڑھے پسینے کی کمائی اپنے دست و بازو سے پیدا کی ہوئی ملکیت! کیا آپ کی مراد چھوٹے دست کار اور چھوٹے کسان کی ملکیت سے ہے جو بورژوا ملکیت سے پہلے کی صورت تھی؟ اسے مٹانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صنعت کی ترقی بڑی حد تک اسے مٹا چکی ہے اور آئے دن مٹاتی جاتی ہے۔

یا شاید آپ کی مراد جدید بورژوا ذاتی ملکیت سے ہے؟

لیکن کیا اجرتی محنت نے مزدور کی محنت نے اس کے لئے کوئی ملکیت پیدا کی ہے؟ بالکل نہیں۔ اس سے صرف سرمایہ پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ وہ ملکیت ہے جو اجرتی محنت کا استحصال کرتی ہے اور جس کے بڑھنے کی واحد شرط یہ ہے کہ مزید استحصال کے لئے برابر اجرتی محنت مہیا ہوتی رہے۔ ملکیت اپنی موجودہ صورت میں سرمایہ اور اجرتی محنت کے تصادم پر مبنی ہے۔ آئیے ہم اس تصادم کے دونوں پہلوؤں پر غور کریں۔

سرمایہ دار ہونے کا مطلب پیداوار میں محض ذاتی نہیں بلکہ سماجی حیثیت کا مالک ہونا ہے۔ سرمایہ اجتماعی پیداوار ہے اور بہت سے آدمیوں کی متحدہ کوششوں سے بلکہ آخر تک نگاہ دوڑائیے تو سماج کے تمام ممبروں کی متحد ہ کوششوں سے ہی حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔

اس لئے سرمایہ کوئی شخصی نہیں بلکہ سماجی طاقت ہے۔

لہٰذاسرمایہ کو جب مشترکہ ملکیت یعنی سماج کے تمام ممبروں کی ملکیت بنای جاتا ہے، تو اس سے انفرادی ملکیت سماجی ملکیت میں نہیں بدلتی، صرف ملکیت کی سماجی حیثیت بدل جاتی ہے۔ اس کی طبقاتی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔

اب ہم اجرتی محنت پر نظر ڈالیں۔

اجرتی محنت کی اوسط قیمت کم سے کم اجرت ہی ہے اور اس میں نان نفقہ کی صرف اتنی ہی مقدار شامل ہے جو مزدور کو مزدور بنا کر کسی طرح زندہ رکھنے کے لئے قطعی ضروری ہے ۔ چناچہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور اپنی محنت کے ذریعہ جو کچھ تصرف میں لاتا ہے وہ محض اسے زندہ رکھنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ ہمارا یہ منشا ہر گز نہیں ہے کہ محنت کی پیداوار کو ذاتی تصرف میں لانے کا یہ سلسلہ بند کردیں۔ اس تصرف کا مقصد زندگی کو قائم رکھناہے۔ اور اس میں فاضل کچھ بچت ہی نہیں جس کے بل پر دوسروں کی محنت قابو میں لائی جا سکے ۔ ہم مٹانا چاہتے ہیں محض اس تصرف کی ناگفتہ یہ حالت کو جس کے تحت مزدور زندہ رہتا ہے فقط سرمایہ کو بڑہانے کے لئے، اور اس کو زندہ اسی وقت تک رہنے دیا جاتا ہے جب تک حکمران طبقے کے مفاد کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

بورژوا سماج میں زندہ محنت محض ایک ذریعہ ہے جمع کی ہوئی محنت کو بڑھانے کا۔ کمیونسٹ سماج میں جمع کی ہوئی محنت ایک ذریعہ ہو گی جس سے مزدور کی زندگی میں نئی وسعتیں پیدا کی جائیں گی۔ اسے زیادہ پر مست بنایا جائے گا اور ترقی دی جائے گی۔

مختصر یہ کہ بورژوا سماج میں حال پر ماضی حاوی ہے ۔ کمیونسٹ سماج میں ماضی پر حال حاوی ہو گا۔ بورژوا سماج میں سرمایہ آزاد ہے اور اس کی اپنی انفرادی ہستی ہے۔ یہا ں زندہ انسان محکوم ہے اس کی کوئی ہستی نہیں۔

اور اس صروت حال کا مٹ جانا، بورژوا طبقے کی زبان میں، انفرادیت اور آزادی ک مٹ جانا ہے! اور بات ٹھیک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا مقصد بورژو انفرادیت، بورژوا خود مختاری اور بورژوا آزادی کو مٹا دینا ہے۔

پیداوار کی موجودہ بورژوا حالتوں میں آزادی کا مطلب ہے تجارت کی آزادی ۔ بیچنے اور خریدنے کی آزادی۔

لیکن اگر خرید وفروخت نہ رہے تو خرید وفروخت کی آزادی بھی نہیں رہے گی۔ خریدو فروخت کی آزادی کی یہ باتیں عموما آزادی کی بارے میں ہمارے بورژوا طبقے کے یہ تمام بڑے بڑے بول اگر کوئی معنی رکھتے ہیں تو صرف پابند خریدوفروخت اور عہد وسطی کے مظلوم تاجروں کے مقابلے میں، مگر کمیونزم کے مقابلے میں، جبکہ خرید وفروخت اور تجارت مٹ جائے گی، پیداوار کے بورژوا تعلقات اور خود بورژوا طبقہ مٹ جائے گا، یہ باتیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

آپ حواس باختہ ہیں کہ ہم ذاتی ملکیت کو مٹانے کے درپے ہیں۔ لیکن آپ کے موجودہ سماج میں دس میں نو آدمیوں کے لئے ذاتی ملکیت پہلے ہی مٹ چکی ہے۔ اور تھوڑے سے آدمیوں کے لئے جو رہ گئی ہے تو اسی وجہ سے کہ دس میں نو اس سے محروم ہیں۔ آپ کے الزام کا مطلب یہ ہے کہ ہم ملکیت کی وہ صورت مٹا دینا چاہتے ہیں جس کے قائم رکھنے کی ضروری شرط ہی یہ ہے کہ سماج کی بہت بڑی اکثریت کے پاس کوئی ملکیت نہ ہو۔

مختصر یہ کہ آپ کو شکایت ہے کہ ہم آپ کی ملکیت مٹا دینا چاہتے ہیں ۔ بجا ہے۔ ہمارا بالکل یہی ارادہ ہے۔

جس دن سے محنت کو سرمایہ، زر یا لگان میں نہیں بدلا جا سکے گا، اسے ایسی سماجی قوت کی شکل نہیں دی جا سکے گی، جسے کوئی اپنا اجارہ بنا سکے، یعنی جس دن سے انفرادی ملکیت بورژوا ملکیت میں تبدیل نہیں ہو سکے گی اس دن سے آپ ک خیال ہے انفرادیت نا پید ہو جائے گی۔

پھر تو آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ" فرد" سے آپ کا مطلب ہر شخص نہیں صرف بورژوا ہے، درمیانی طبقے کا صاحب جائداد شخص۔ اور بلاشبہ اس شخص کو ختم کر دینا چاہیے۔

سماج کی پیداوار کو اپنے تصرف میں لانے کے حق سے کمیونزم کسی انسا ن کو محروم نہیں کرتی ۔ وہ انسان کو صرف اس اختیار سے محروم کرنا چاہتی ہے جس کی بدولت وہ اس تصرف کے ذریعہ دوسروں کی محنت کو اپنا غلام بناتا ہے۔

اعتراض کیا جاتا ہے کہ ذاتی ملکیت کے مٹتے ہی سارے کام کاج بند ہو جائیں گے اور ہر آدمی پر کاہلی سوار ہو جائے گی۔

اس اعتبار سے تو بورژوا سماج کو محض کاہلی کے ہاتھوں آج سے بہت پہلے فنا کے گھاٹ اتر جانا چاہیے تھا کیونکہ اس سماج میں جو لوگ کام کرتے ہیں انہیں کچھ ملتا اور جنہیں ملتا ہے وہ کام نہیں کرتے۔ یہ اعتراض اسی بات کو دوسرے لفظوں میں دہراتا ہے کہ سرمایہ نہیں رہے گا تو اجرتی محنت بھی نہیں رہے گی۔

مادی پیداوار کے کمیونسٹ طریقہ پیدائش اور تصرف کے خلاف یہ تمام اعتراضات اسی طرح سے ذہنی پیداوار کے کمیونسٹ طریقہ پیدائش اور تصرف کے خلاف پیش کئے گئے ہیں۔ بورژوا کی نظر میں جس طرح طبقاتی ملکیت کا مٹنا سرے سے پیداوار کا مٹ جانا ہے، اسی طرح طبقاتی تہذیب کا مٹ جانا ان کے خیال میں ساری تہذیب کا مٹ جانا ہے۔

وہ تہذیب جس کے مٹنے پر وہ آنسو بہاتے ہیں، انسان کی بہت بڑی اکثریت کو محض مشین کی طرح حرکت کرنا سکھاتی ہے۔

بورژوا ملکیت کو مٹانے کی ہماری تجویز کو اگر آپ آزادی، تہذیب، قانون وغیرہ کے بورژوا تصورات کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے خیالات بجائے خود بورژوا پیداوار اور بورژوا ملکیت کے تعلقات کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح جیسے آپ کا فلسفہ قانون اس کے سوا کچھ نہیں کہ آپ کے طبقے کی مرضی کو سب کے لئے قانون بنا دیا گیا اور وہ مرضی ایسی ہے جس کی اصلی نوعیت اور میلان آپ کے طبقے کے اقتصادی حالات زندگیسے متعین ہو اہے۔

یہ خود غرض غلط خیالی جو آپ کو ترغیب دیتی ہے کہ آپ اپنے پیداواری تعلقات اور ملکیت کے رشتوں کو، جو تاریخی ہیں اور پیداوار کی ترقی کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، قدرت اور عقل کے ابدی قوانین میں ڈھالیں۔ یہ ایسی غلط خیالی ہے جس میں آپ بھی پہلے کے تمام حکمران اور فنا ہو جانے والے طبقوں کی طرح مبتلا ہیں۔ قدیم ملکیت کے سلسلے میں آپ جو کچھ صاف دیکھتے ہیں۔ جاگیر دار ملکیت کے بارے میں آپ جس بات کو مانتے ہیں، وہی بات آپ ملکیت کی اپنی بورژوا صورت کے بارے میں ماننے سے معذور ہیں۔

خاندان کانام ونشان مٹا دیا جائے۔ بڑے سے بڑے انتہا پسند بھی کمیونسٹوں کی اس شرمناک تجویز پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے کا خاندان بورژوا خاندان آخر کس بنیاد پر قائم ہے؟ سرمایہ پر ذاتی منافع پر۔ اپنی مکمل ترین صورت میں یہ خاندان صرف بورژوا طبقے میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس تصویر کا دوسر رخ یہ ہے کہ ایک طرف مزدور بے خاندان رہنے پر مجبور ہیں اور سربازار عصمت فروشی ہوتی ہے۔

بورژوا خاندان کا یہ پہلو جب نہیں رہے گا تو وہ خاندان آپ ہی آپ مٹ جائے گ اور سرمایہ کے مٹتے ہی دونوں مٹ جائیں گے۔

کیا آپ کا الزام ہے کہ ہم ماں باپ کو اپنے بچوں کے استحصال سے روکنا چاہتے ہیں؟ ہم اپنا یہ جرم مانتے ہیں۔

لیکن آپ کہیں گے کہ ہم سب سے قابل احترام رشتوں کو برباد کرنے کے درپے ہیں کیونکہ ہم گھریلو تعلیم کی جگہ سماجی تعلیم جاری کرنا چاہتے ہیں۔

اور آپ کی تعلیم؟ کیا وہ بھی سماجی نہیں؟ کیا وہ بھی ان سماجی حالات سے متعین نہیں ہوتی جن میں آپ وہ تعلیم دیتے ہیں؟ کیا اس میں بھی اسکول وغیرہ کے ذریعہ سماج کی براہ راست یا بالواسطہ دست اندازی نہیں ہوتی؟ تعلیم میں سماج کی مداخلت کمیونسٹوں نے ایجاد نہیں کی۔ وہ صرف اس مداخلت کی نوعیت کو بدلنا اور تعلیم کو حکمران طبقے کے اثر سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔

خاندان اور تعلیم کے بارے میں ماں باپ اور بچوں کے مقدس رشتے کے بارے میں بورژوا شور غوغا اسی قدر نفرت انگیز ہو تا جاتا ہے جس قدر جدید صنعت کے اثر سے مزدوروں میں تمام خاندانی بندھن ٹوٹتے جاتے ہیں اور ان کے بچے تجارت کی جنس اور محنت کا اوزار بنتے جاتے ہیں۔

لیکن پورا بورژوا ایک آواز سے چیخ اٹھتا ہے کہ تم کمیونسٹ تو عورتوں کو بھی ساجھے کی ملکیت بنا دوگے۔

بورژوا کی نظر میں اس کی بیوی کی حیثیت بھی پیداوار کے ایک آلے سے زیادہ نہیں۔ پھر جب وہ سستا ہے کہ آلات پیداوار کا استحصال ساجھے میں کیا جائے گ تو قدرتا اس کے سوا کسی نتیجیپر نہیں پہنچ سکتا کہ عورتوں کا بھی یہی حشر ہو گا۔

اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ اصل مقصد عورتوں کی اس حیثیت کا خاتمہ کرنا ہے جس میں وہ صرف پیداوار کا آلہ بن کر رہ گئی ہیں۔ پھر اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے بورژوا پاک دامنی کے جوش میں عورتوں کی ساجھی داری پر ناک بھوں چڑھائیں اور ظاہر یہ کریں کہ کمیونسٹ کھلے بندوں اور قانوناً اس کو رائج کریں گے۔ اس کا رواج تو بہت پرانے زمانے سے چلا آتا ہے۔

زنان بازاری کا تو کہنا ہی کیا، جب اپنے مزدوروں کی بہو بیٹیوں سے بھی جی نہیں بھرتا تو ہمارے بورژوا ایک دوسرے کی بیویوں سے ناجائز تعلق قائم کرکے انتہائی مسرت حاصل کرتے ہیں۔

بورژوا شادی دراصل ساجھے میں بیویوں رکھنے کا دستور ہے اور اس لئے کمیونسٹوں پر بفرض محال بڑے سے بڑا الزام کوئی ہو سکتا ہے تو یہی کہ وہ اس منافقت بھری اور پوشیدہ ساجھے داری کے بدلے عورتوں کی اعلانیہ قانونی ساجھے داری قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ اور اصل حقیقت ظاہر ہے کہ جب موجودہ تعلقات پیداوار اور مٹیں گے تو اس کے ساتھ عورتوں کو ساجھے میں رکھنے کا دستور، یعنی بازاری ی خانگی عصمت فروشی بھی، جو ان تعلقات کا نتیجہ ہے، مٹ جائے گی۔

پھر کمیونسٹوں پر ایک الزام یہ ہے کہ وہ وطن اور قومیت کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔

مزدوروں کا کوئی وطن نہیں۔ اور جو ان کے پاس ہے نہیں، اسے ان سے کون چھین سکتا ہے ۔ مزدور طبقے کو چونکہ سب سے پہلے سیاسی اقتدار حاصل کرنا ہے ترقی کرکے قوم کا اگوا طبقہ بننا ہے ۔ بلکہ خود قوم بننا ہے۔ اس لئے اس حد تک وہ خود قومی ہے۔ مگر اس لفظ کا وہ مفہوم نہیں جو بورژوا سمجھتے ہیں۔

بورژوا طبقے کی نشوونما تجارت کی آزادی عالم گیر منڈی طریقہ پیداوار اور اس سے متعلقہ حالات زندگی دونوں کی یکسانیت روز بروز قومی امتیاز اور اختلافات کو مٹاتی جاتی ہے۔

پرولتاریہ کا اقتدار قائم ہونے پر وہ اور تیز ی سے مٹنے لگیں گے۔ پرولتاریہ کی آزادی کی پہلی شرط یہ ہے کہ کم از کم تمام ترقی یافتہ مہذ ب ملک ساتھ مل کر قدم اٹھائیں۔

ایک قوم کے ہاتھوں دوسری قوم کا استحصال اسی نسبت سے ختم ہو گا جس نسبت سے ایک فرد کے ہاتھوں دوسرے فرد کا استحصال۔

جتنی تیزی سے قوم کے اندر طبقوں کا اختلاف دور ہو گا اتنی ہی تیزی سے ایک قوم سے دوسری قوم کی دشمنی دور ہو گی۔

کمیونزم پر مذہبی فلسفیانہ اور عموما نظریاتی نقطہ نظر سے جو اعتراض کئے جاتے ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

کیا یہ سمجھنے کے لئے غیر معمولی بصیرت کی ضرورت ہے کہ آدمی کی مادی زندگی کی حالتوں، اس کے سماجی رشتوں اور اس کی سماجی زندگی میں جب کبھی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ آدمی کے خیالات، تصورات اور نظریے، مختصر یہ کہ آدمی کا شعور بدل جاتا ہے؟

خیالات کی تاریخ نے اس کے سوا اور ثابت ہی کیا کیا ہے کہ جس نسبت سے مادی پیداوار کی نوعیت بدلتی ہے اسی نسبت سے ذہنی پیداوار کی نوعیت بھی بدلتی ہے۔ ہر عہد میں فرمان روائی انہیں خیالات کی رہی جو فرمان روا طبقے کے خیالات تھے۔

لوگ جب ایسے خیالات کا ذکر کرتے ہیں جن سے سماج میں انقلاب آتا ہے تو وہ صرف اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں کہ پرانے سماج کے اندر ایک نئے سماج کے عناصر پیدا کئے گئے ہیں اور پرانے حالات زندگی کے ساتھ ہر ہر قدم پر پرانے خیالات بھی مٹتے جاتے ہیں۔

قدیم دنیا جب آخری ہچکیاں لے رہی تھی اس وقت قدیم مذہبوں پر عیسائیت نے غلبہ پا لیا ۔ اور اٹھارہویں صدی میں جب عقلی خیالات کے سامنے عیسائی خیالات نے ہتھیار رکھ دئے اس وقت جاگیردار سماج اپنے زمانے کے انقلابی بورژوا طبقے سے زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی کے یہ خیالات صرف یہ ظاہر کر رہے تھے کہ علم کی دنیا میں آزاد مقابلے کا راج قائم ہو چکا ہے۔

کہا جائے گا کہ "بلاشبہ تاریخی نشوونما کے دوران میں مذہبی اخلاقی فلسفیانہ سیاسی اور قانونی سیاست اور قانونی خیالات میں ترمیم ہوتی رہی ہے۔ لیکن مذہب فلسفہ، عمل سیاست اور قانون ان تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ قائم رہے۔

"پھر ان کے علاوہ کچھ ابدی صداقتیں بھی جیسے آزادی, انصاف وغیرہ اور یہ سماج کی تمام منزلوں میں مشترک ہیں۔ لیکن کمیونزم تمام ابدی صداقتوں کی منکر ہے۔ وہ سرے سے مذہب اور اخلاق کو مٹا دیتی ہے۔ یہ نہیں کہ انہیں کسی نئی بنیاد پر مرتب کرتی ہو ۔ اور اس لئے کمیونزم تمام پچھلے تاریخی تجربے کے خلاف قدم اٹھارہی ہے۔"

اس الزام کے معنی کیا ہیں ؟ تمام پچھلے سماج کی تاریخ، طبقاتی اختلافات کی نشوونما کی تاریخ ہے۔ ان اختلافات نے محتلف زمانوں میں مختلف صورتیں اختیار کیں۔ لیکن ان کی صورت کچھ بھی رہی ہو ایک خصوصیت تمام پچھلی صدیوں میں مشترک رہی اور وہ ہے سماج کے ایک حصے کے ہاتھوں دوسرے کا استحصال ۔ چنانچہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پچھلی صدیوں کا سماجی شعور اپنی رنگا رنگی اور گونا گوئی کے باوجود بعض مشترک صورتوں شعور کی صورتوں میں ارتقا کرتا رہا ہے اور یہ اس وقت تک پوری طرح نہیں مٹ سکتیں جب تک کہ خود طبقاتی اختلافات بالکل دور نہ ہو جائیں۔

کمیونسٹ انقلاب ملکیت کے روائیتی تعلقات پر سب سے کاری ضرب ہے۔ چنانچہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس کی نشوونما کی لپیٹ میں آکر روائیتی خیالات کی جڑیں بھی کٹ جاتی ہیں۔

لیکن اب کمیونزم کے خلاف اعتراضوں کا قصہ ختم کیا جائے۔

ہم دیکھ آئے ہیں کہ انقلاب میں مزدور طبقے کا پہلا قدم پرولتاریہ کو حکمران طبقے کی جگہ پر پہنچانا ہے، جمہوریت کی لڑائی جیتنا ہے۔

پرولتاریہ اپنے سیاسی اقتدار سے کام لے کر رفتہ رفتہ پورا سرمایہ بورژوا طبقے سے چھین لے گا ۔ پیداوار کے تمام آلات کو ریاست یعنی حکمران طبقے کی صورت میں منظم پرولتاریہ کے ہاتھوں میں مرکوز کر دے گا اور پھر جتنی تیزی سے ہو سکے تمام پیداواری قوتوں کو ترقی دے گا۔

اس میں شک نہیں کہ ابتدا میں اس کو عمل میں لانے کی اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ملکیت کے حقوق اور بورژواپیداوار کے تعلقات پر جارحانہ حملہ کیا جائے ۔ لہٰذاایسی تدبیریں اختیار کی جائیں جو اقتصادی اعتبار سے ناکافی اور ناکارہ معلوم ہو ں گی، لیکن جو تحریک کے دوران میں اپنی حدود سے آگے قدم بڑھائیں گی، جن سے پرانے سماجی نظام پر مزید حملوں کی ضرورت پیدا ہو گی اور جو طریقہ پیداوار کی بالکل کایا پلٹ دینے کے لئے بے حد ضروری ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مختلف ملکوں میں یہ تدبیریں بھی مختلف ہوں گی ۔بہر کیف سب سے ترقی یافتہ ملکوں میں مندرجہ ذیل تدبیریں بڑی حد تک قابل عمل ثابت ہوں گی۔:


۱( زمین کے حق ملکیت کو مٹانا اور پورے لگان کو رفاہ عامہ پر خرچ کرنا۔
۲( زیادہ آمدنی کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہو ٹیکس لگانا۔
۳( وراثت کے حقوق کو منسوخ کرنا۔
۴( وطن سے فرار ہونے والوں اور باغیوں کی جایداد ضبط کرنا۔
۵( لین دین کا سارا کاروبار ایک قومی بنک کے ذریعہ جس میں ریاست کا سرمایہ اور صرف اسی کا اجارہ ہو ریاست کے ہاتھوں میں مرکوز کرنا۔
۶( نقل و حرکت اور خبر رسانی کے تمام وسیلوں پر ریاست کا مرکزی قبضہ ہونا۔
۷(ریاست کے کارخانوں اور آلات پیداوار کو توسیع دینا۔ ایک مشترکہ منصوبے کے مطابق بنجر زمین کو کاشت میں لانا اور بالعموم زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرنا۔
۸( سب پر کام کرنے کی یکساں ذمہ داری ہونا۔ صنعتی فوجیں بنانا، خاص کر زراعت کے لئے۔
۹( زراعت اور صنعت کو ملانا اورملک میں آبادی کی تقسیم ایسے مساوی انداز میں کرنا کہ رفتہ رفتہ شہر اور دیہات کا فرق جاتا رہے۔
۱۰( عام اسکولوں کے ذریعہ تمام بچوں کو مفت تعلیم دینا۔ کارخانوں میں بچوں سے موجودہ شکل میں کام لینے کا رواج بند کرنا۔ تعلیم کو صنعتی پیداوار کے ساتھ ملانا وغیرہ وغیرہ۔

نشوونما کے دوران میں جب طبقاتی امتیازات مٹ جائیں گے اور تمام پیداوار پوری قوم کی ایک وسیع سماجی انجمن کے ہاتھوں میں جمع ہو جائے گی، اس وقت اقتدارعامہ کی سیاسی حیثیت جاتی رہے گی۔ سیاسی اقتدار اصل میں ایک طبقے کا منظم تشدد ہے دوسرے پر ظلم کرنے کے لئے ۔ پرولتاریہ اگر بورژوا طبقے سے جدوجہد کے دوران حالات سے اس پر مجبور ہوتا ہے کہ ایک طبقے کی صورت میں اپنی تنظیم کرے، اگر انقلاب کی بدولت وہ حکمران طبقہ بنتا ہے اور اس طرح پیدوار کے پرانے تعلقات کو زبردستی ختم کر دیتا ہے تو ان کے ساتھ وہ ان حالتوں کو بھی ختم کر دیتا ہے جن پر طبقاتی اختلافات اور خود طبقات کا وجود منحصر ہے۔ اور اس طرح ایک طبقے کی حیثیت سے خود اپنے اقتدار کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ پرانے بورژوا سماج اور اس کے طبقوں اور طبقاتی اختلافوں کے بدلے ایک ایسی انجمن قائم ہو گی جس میں ہر شخص کی آزاد ترقی سب کی آزاد ترقی کی شرط ہو گی۔

3۔ سوشلسٹ اور کمیونسٹ ادب

۱ ۔ رجعتی سوشلزم
(۱) جاگیر داری سوشلزم

فرانس اور انگلینڈ کے اشرافیہ کی تاریخی حیثیت کچھ ایسی تھی کہ جدید بورژو سماج کے خلاف مختصر پمفلٹ لکھنا اس کا مشغلہ بن گیا۔ جولائی 1830کے انقلاب فرانس اور انگریزی تحریک اصلاح میں اس اشرافیہ کو ایک بار پھر اس ذلیل نودولتیے کے سامنے ہتھیار ڈال دینا پڑا ۔ اس دن سے کسی اہم سیاسی جدوجہد ک سوال ہی باقی نہیں رہا ، اب صرف قلم کی لڑائی ممکن تھی۔ لیکن ادب کے میدان میں بھی شاہی رجعت پرستی کے زمانے کے نعرے بلند کرنا اب محال ہو گیا تھا۔ ہمدردی پیدا کرنے کی غرض سے اشرافیہ کو مجبور ہونا پڑا کہ بظاہر خود اپنے مفاد کو بھی نظر انداز کر دیں اور بورژوا طبقے کے خلاف فرد جرم مرتب کرنے میں صرف استحصال کئے جانے والے مزدور طبقے کے مفاد کو سامنے رکھیں ۔ غرضیکہ اشرافیہ نے اپنے نئے آقاؤں سے انتقام کی صورت یہ نکالی کہ ان کی شان میں ہجویہ نظمیں لکھیں اور آنے والی تباہی کی نامبارک فال ان کے کان تک پہنچات رہا۔

اس طرح جاگیردار سوشلزم کا ظہور ہوا: کچھ رونا دھونا، کچھ ہجو گوئی، کچھ ماضی کی گونج اور کچھ مستقبل کا ڈر ۔ کبھی کبھی اپنی تلخ ظریفانہ اور چبھتی ہوئی تنقید سے وہ بورژوا طبقے کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ لیکن جدید تاریخ کے تقاضوں کو سمجھنے سے وہ بالکل معذور ہے اور اس لئے اس کا اثر ہمیشہ مضحکہ خیز ہوتا ہے۔

اشرافیہ نے لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کرنے کے لئے مزدوروں کے نام پر خیرات کی جھولی اٹھائی اور اسے اپنا پرچم بنا لیا۔ مگر جب کبھی لوگ اس کے حلقے میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ گھر کے اند ر وہی پرانے جاگیردار منصب ک نشان ابھی تک محفوظ ہے، چناچہ زور کے حقارت آمیز قہقے لگاتے ہوئے وہ اس الگ ہو گئے۔

فرانسیسی وراثت پسندوں اور نوجوان انگلستان کے ایک حصے نے یہی نظارہ پیش کیا۔

اگر جاگیر یت پسند کہتے ہیں کہ ان کا استحصال کا طریقہ بورژوا طبقے سے مختلف تھا ، تو وہ بھول جاتے ہیں کہ جس ماحول اور جن حالتوں میں وہ استحصال کرتے تھے وہ بالکل مختلف تھیں اور اب گئے گذرے زمانے کی باتیں ہو گئیں ۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ ان کے زمانے میں جدید پرولتاریہ کا کہیں وجود نہیں تھا تو وہ بھول جاتے ہیں کہ جدید بورژوا طبقہ ان کے سماجی نظام کی ہی پیداوار ہے۔

اور باقی تو وہ اپنی تنقید کی رجعتی توعیت کو چھپانے کی بہت کم کوشش کرتے ہیں۔ بورژوا طبقے کے خلاف ان کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ بورژوا نظام کو بالکل جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکنے والا ہے ۔ وہ بورژوا طبقے پر اس بات کے لئے زیادہ ملامت کرتے ہیں کہ وہ انقلابی پرولتاریہ پیدا کرتا ہے، بمقابلہ اس بات کے کہ وہ عام طور پر پرولتاریہ پیدا کرتا ہے۔

اس لئے عملی سیاست میں وہ مزدور طبقے کے خلاف تشدد کی سبھی کارروائیوں میں پورا حصہ لیتے ہیں،اور روزمرہ کی زندگی میں اپنی ساری ڈینگ کے باوجود صنعت کے درخت سے جو سنہرے پھل ٹپکتے ہیں ان کو اٹھانے کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں اور اون ،چقند ر کی کھانڈ اور آلو کی شراب کی تجارت میں صداقت، محبت اور غیرت سبھی ک سودا کر آتے ہیں۔

مسیحی سوشلزم اور جاگیرداری سوشلزم میں اسی طرح چولی دامن کا ساتھ ہے، جس طرح پادری اور زمین دار میں۔

عیسائیوں کی رہبانیت کو سوشلزم کا جامہ پہنانے سے زیادہ آسا ن اور کوئی کام نہیں ۔ کیا عیسائیت نے بھی ذاتی ملکیت ازدواج اور ریاست کے خلاف فتوے نہیں صادر کئے؟ کیا اس نے بھی ان کی جگہ پر نیک کام اور فقر تجرد اور نفس کشی رہبانی زندگی اور کلیسائیت کی تلقین نہیں کی ؟ مسیحی سوشلزم وہ گنگا جل ہے جس کے چھینٹوں سے پادری اشرفیہ کے دل کی جلن کو سکون پہنچنا ہے ۔

(ب) پیٹی بورژوا سوشلزم

جاگیر دار اشرافیہ ہی ایک ایسا طبقہ نہیں جسے بورژوا طبقے نے ابتر بنایا ہو ۔ جس کا نظام زندگی جدید بوروژوا سماج کی فضا میں جھلس کر برباد ہو چکا ہو ۔ عہد وسطی کے شہر ی بیوپاری اور چھوٹے آراضی دار کسان جدید بورژوا طبقے کے پیش رو تھے ۔ جن ملکوں میں صنعت اور تجارت نے زیادہ ترقی نہیں کی وہاں آج بھی یہ دونوں طبقے نوخیز بورژوا طبقے کے پہلو بہ پہلو برے بھلے زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں ۔

جن ملکوں میں جدید تہذیب پورے شباب پر پہنچ گئی ہے۔ وہا ں پیٹی بورژوا کا ایک نیا طبقہ بن گیا ہے جو پرولتاریہ اور اور بورژوا کے بیچ میں ڈانوا ڈول رہت ہے اور بورژوا سماج کے ایک ضمنی حصے کی حیثیت سے برابر اپنی تجدید کرتا رہت ہے۔ لیکن مقابلہ اس طبقے کے افراد کو ایک ایک کرکے مزدور طبقے کے اندردھکیلت رہتا ہے اور جوں جوں جدید صنعت ترقی کرتی ہے وہ خود اس لمحے کو قریب آتے دیکھتے ہیں۔ جب جدید سماج میں ان کی آزاد حیثیت ختم ہو جائے گی اور صنعت زراعت اور تجارت میں نگران کار کارندے اور دکان کے ملازم ان کی جگہ لیں گے۔

جن ملکوں میں فرانس کی طرح آبادی میں آدھے سے زیادہ کسان ہیں، وہاں یہ قدرتی بات تھی کہ بورژوا طبقے کے خلاف پرولتاریہ کا ساتھ دینے والے مصنف بورژو نظام پر رائے زنی کرنے میں کسان یا پیٹی بورژوا طبقے کی کسوٹی سے کام لیتے اور ان ہی درمیانی طبقوں کے نقطہ نظر سے مزدور طبقے کی پشت پناہی کرتے ۔ چناچہ اس طرح پیٹی بورژوا سوشلزم پیدا ہوئی۔ سسماندی صرف فرانس میں ہی نہیں بلکہ انگلینڈ میں بھی اس مسلک کے لوگوں کا پیشوا تھا۔

سوشلزم کے اس مکتب نے جدید پیداوار ی تعلقات میں تضاد کی چھان بین کرنے میں بڑی ذہانت کا ثبوت دیا۔ اس نے ماہرین اقتصاد یات کی منافقانہ بہانہ سازیوں ک پردہ فاش کیا۔ اس نے ناقابل تردید شہادتوں سے ثابت کیا کہ مشین سازی اور تقسیم محنت، چند ہاتھوں میں سرمایہ اور زمین کا اجتماع، فاضل پیداوار اور بحران کیسے کیسے تباہ کن اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اس نے پیٹی بورژوا اور کسانوں کی ناگزیز تباہی، مزدور طبقے کی غریبی، پیداوار کی بد نظمی، تقسیم دولت کی شدید نابرابری، قوموں کی آپس میں ایک دوسرے کو مٹا دینے والی صنعتی جنگ، پرانے اخلاقی بندھنوں، پرانے خاندانی رشتوں اور پرانی قوموں کی بربادی ک نقشہ کھینچا۔

لیکن اپنے اثباتی مقاصد میں اس قسم کی سوشلزم یا تو پیداوار اور تبادلے کے پرانے وسیلوں کو اور ان کے ساتھ ملکیت کے پرانے رشتوں اور پرانے سماج کو بحال کرنے کی خواہاں ہے یا پھر پیداوار اور تبادلے کے جدید وسیلوں کو ملکیت کے پرانے رشتوں کی حد بندی کے اند ر بند رکھنا چاہتی ہے، حالانکہ انہی وسیلوں کے دباؤ سے وہ رشتے دھماکے کے ساتھ ٹوٹے تھے۔ اور یہ ناگزیر تھا۔ دونوں صورتوں میں یہ سوشلزم رجعت پرست اور یوٹوپیائی ہے۔

صنعت میں اہل حرفہ کی منظم انجمنیں اور زراعت میں سر قبیلی رشتے ،یہی اس سوشلزم کا حرف آخر ہے۔

لیکن بالاخر جب تاریخ کی اٹل حقیقتوں نے خود فریبی کے تمام نشہ آور اثرات کو دور کر دیا تو اس قسم کی اشتراکیت نے انتہائی یاس کے عالم میں سر پیٹ لیا ۔ اور یہی اس کا انجام تھا۔

(ج) جرمن یا "سچی" سوشلزم

فرانس کا سوشلسٹ اور کمیونسٹ اد ب ایسا ادب تھا جو ذی اقتدار بورژوا طبقے کے جبر او ر دباؤ کے تحت پیدا ہو ااور جو ان کے اقتدار کے خلاف جدوجہد کا آئینہ دار تھا۔ یہ ادب جرمنی اس وقت پہنچا جب اس ملک کا بورژوا طبقہ جاگیر دار انہ مطلق العنانی کے خلاف ابھی میدان میں اترا ہی تھا۔

جرمنی کے فلسفی، نیم فلسفی اور انشا پرداز بڑے اشتیاق سے اس ادب پر ٹوٹ پڑے ۔ انہیں اتنی سی بات یاد نہیں رہی کہ یہ تحریریں جب فرانس سے جرمنی آئیں تو ان کے ساتھ فرانس کے سماجی حالات نہیں آئے تھے۔ جرمنی کے سماجی حالات میں آتے ہی یہ فرانسیسی ادب اپنی فوری عملی اہمیت کھو بیٹھا اور اس نے خالص ادبی صورت اختیار کر لی۔ چنانچہ اٹھارہویں صدی کے جرمن فلسفیوں کی نظر میں پہلے انقلاب فرانس کے مطالبے عام طور پر عملی منطق کے تقاضوں کے سوا اور کچھ نہ تھے اور ان کے خیال میں فرانس کی انقلابی بورژوازی کی مرضی کا اظہار دراصل خالص مرضی یا مرضی کی اصلی صورت یعنی سچی انسانی مرضی کے قوانین کی اہمیت رکھتا تھا۔

جرمنی کے ارباب علم کا کام محض یہ تھا کہ نئے فرانسیسی خیالات اور اپنے فلسفیانہ نقطہ نظر سے فرانسیسی ضمیر میں ہم آہنگی پیدا کریں ۔ دوسرے لفظوں میں اپنے فلسفیانہ نقطہ نظر سے فرانسیسی خیالات کو اپنا لیں۔ ان خیالات کو انہوں نے اسی طرح اپنایا جیسے کسی بدیسی زبان کے ادب کو اپنایا جاتا ہے۔ یعنی ترجمے کے ذریعہ ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ قدیم زمانے کے کلاسیکی قلمی نسخوں کے مسودوں کے اوپر راہبوں نے کیتھولک اولیاؤں کے لغوسوانح حیات لکھے تھے۔ جرمنی کے ارباب علم نے فرانس کے غیر مقدس ادب کے سلسلے میں اس طریقے کو الٹ دیا۔ فرانسیسی خیالات کو انہوں نے اپنے فلسفیانہ لغویات لکھنے کے لئے استعمال کی ۔ زر کے تعلقات کے بارے میں فرانسیسی تنقید کے نیچے انہوں نے "انسانیت کی برگشتگی "لکھا اور بورژوا ریاست کی فرانسیسی تنقید کے نیچے "مجرد کل کے تسلط کا خاتمہ" ، وغیرہ۔

غرضیکہ انہوں نے فراس والوں کی تاریخی تنقیدوں کے ساتھ اپنے فلسفیانہ فقروں کا دم چھلا لگا دیا اور اس کا نام رکھ دیا: "فلسفہ عمل"، "سچی سوشلزم "، "سوشلزم کی جرمن سائنس"،" سوشلزم کی فلسفیانہ "بنیاد۔ وغیرہ
غرضیکہ فرانسیسی سوشلسٹ اور کمیونسٹ ادب بالکل بے جان بنا دیا گیا ۔ اور چونکہ جرمنوں کے ہاتھ میں وہ ایک طبقے کے خلاف دوسرے کی جدوجہد کا آئینہ دار بھی نہیں رہا، اس لئے اس کو یہ احساس ہو گیا کہ اس نے "فرانسیسی یک طرفہ پن" دور کر دیا ہے اور وہ حقیقی تقاضوں کی نہیں بلکہ حق کے تقاضوں کی ،مزدور طبقے کے مفاد کی نہیں بلکہ انسانی فطرت کے مفا د کی، یعنی عام انسان کی نمائندگی کرتا ہے، جو کسی طبقے کا نہیں ہے، جس کا وجود صرف فلسفیانہ اوہام کے دھند لکے میں ہیں۔

اس اثنا میں یہ جرمن سوشلزم جس نے اپنے طفلانہ کاموں کو اتنا اہم اور سنجیدہ سمجھ رکھا تھا اور بازاری دوا فروش کی طرح اپنے دو کوڑی کے مال کاڈھنڈور پیٹا تھا، رفتہ رفتہ اپنی کتابی معصومیت کھو بیٹھی۔

جاگیر داشرافیہ اور مطلق العنان بادشاہت کے خلاف جرمنی اور خصوصا پروشیا کے بورژوا طبقے کی لڑائی یا دوسرے لفظوں میں لبرل تحریک زیادہ سنگین ہو گئی ۔ اس سے سچی سوشلزم کی دیرینہ آرزو برآئی اسے موقع ملا کہ سیاسی تحریک کے سامنے سوشلسٹ مطالبے پیش کرے ۔ اعتدال پسندی نمائندہ حکومت کے سامنے بورژوا مقابلہ پریس کے بورژوا آزادی بورژوا قانون سازی اور بورژوا آزادی اور برابری کے خلاف اپنی پرانی لعنتوں کی بوچھاڑ شروع کرے اور عوام الناس کو بتلائے کہ اس بورژو تحریک میں ان کا کوئی فائدہ نہیں، سراسرنقصان ہی نقصان ہے۔ جرمن سوشلزم عین وقت پر بھول گئی کہ وہ خود جس فرانسیسی تنقید کی ایک بے معنی نقل تھی، اس کے پیش نظر جدید بورژوا سماج اسی سے مطابقت رکھنے والے مادی حالات زندگی اور سیاسی ڈھانچے سمیت تھا اور یہی وہ چیزیں تھیں جن کا حاصل کرنا جرمنی کی آنے والی جدوجہد کا مقصد تھا۔

جرمن مطلق العنان حکومتوں کے لئے جن کے ساتھ پادریوں، پروفیسروں، دیہاتی زمنینداروں اور افسروں کا ایک لاؤ لشکر موجود تھا، یہ ( سوشلزم ) ایک پسند یدہ چیز تھی جس کی نوعیت سے خطرناک بڑھتی ہوئی بورژوازی کو ڈرایا جا سکت تھا۔

یہ ان کڑوے تازیانوں اور گولیوں پر چڑھتی ہوئی شکر تھی جن کے ذریعہ حکومت جرمن مزدوروں کی بغاوتوں کو دبا رہی تھی ۔ ایک طرف تو یہ "سچی "سوشلزم جرمن بورژوا طبقے کے خلاف لڑنے کے لئے حکومتوں کے ہاتھوں میں ہتھیار میں ہتھیار ک کام دیتی تھی اور دوسری طرف براہ راست ایک رجعتی مفاد یعنی جرمنی کے پیٹی بورژوازی کے مفاد کی علم بردار تھی۔ جرمنی کا یہ پیٹی بورژوا طبقہ سولہویں صدی کی نشانی ہے اور اس وقت سے برابر مختلف صورتوں میں نمودار ہوتا رہا ہے اور یہی موجودہ صورت حال کی اصلی سماجی بنیاد ہے۔

اس طبقے کو قائم رکھنے کا مطلب جرمنی میں موجود ہ صورت حال کو قائم رکھنا ہے ۔ بورژوازی کی صنعتی اور سیاسی برتری سے ڈرتے ہوئے وہ اپنی قطعی تباہی ک انتظار کرتا ہے ۔ ایک طرف سرمائے کے مرکوز ہونے کی وجہ سے اور دوسری طرف انقلابی پرولتاریہ کی نشو و نما کی وجہ سے۔ پیٹی بورژا کو معلوم ہوتا ہے کہ " سچی" سوشلزم ایک تیر سے دو نوں کا شکار کرتی ہے۔ اور اس لئے سچی سوشلزم ایک وبا کی طرح پھیل گئی۔

جرمن سوشلسٹوں نے اپنی بے مایہ ابدی صداقتوں کے لاغر پنجر کو ایک روحانی لباس پہنا دیا جسے منطقی استدلال کے تانے بانے سے بنایا گیا تھا، جس پر فصاحت کے بیل بوٹے کاڑھے ہوئے تھے اور جو میٹھے جذبات کی آنسوؤں میں بھیگا ہو تھا ۔ یہ لبادہ اس طبقے میں ان کے مال کی کھپت بڑہانے میں بہت کارآمد ثابت ہوا۔

اور اپنی جانب سے جرمن سوشلززم روز بروز یہ تسلیم کرتی گئی کہ لمبی چوڑی باتیں کرکے پیٹی بورژوا طبقے کی وکالت کرنا ہی اس کا اصلی کام ہے۔

اس نے دعوی کیا کہ جرمن قوم ہی ایک مثالی قوم ہے اور جرمن کا پیٹی بورژو انسانیت کا اعلی نمونہ ۔ اس مثالی انسان کی ہر کمینہ حرکت اور سفلہ پن کی اس نے ایک مخفی اعلیٰ اور سوشلسٹ تعبیر پیش کی جو اس کی اصلی خصلت کے بالکل برعکس تھی۔ انتہا یہ کہ اس نے کمیونزم کی کھلم کھلا مخالفت شروع کر دی کہ اس میں " وحشیانہ تباہ کاری "کا رجحان پایا جاتا ہے اور اپنی غیر جانب داری کے نام سے تمام طبقاتی جدوجہد کے لئے انتہائی حقارت کا اظہا ر کیا ۔ آج کل جرمنی میں سوشلزم اور کمیونزم کے نام سے جن کتابوں کا چلن ہے ان میں چند ایک کو چھوڑ کر سب اسی گندے اور نکما بنا دینے والے ادب سے تعلق رکھتی ہیں۔
 

2 ۔ قدامت پسند یا بورژو سوشلزم

بورژوا طبقے کاایک حصہ سماج کی خرابیوں کو دور کر دینا چاہتا ہے تاکہ بورژو سماج کی زندگی کو قائم رکھا جاسکے۔

اس گروہ میں ماہرین معاشیات ،انسانیت دوست، غریبوں کے ہمدرد، مزدور طبقے کی حالت سدہارنے والے، کارخیر کے ناظم، جانوروں پر بے رحمی کی مخالفت کرنے والی انجمنوں کے اراکین، شراب نوشی کے کٹر مخالف اور چھوٹے چھوٹے مصلح شامل ہیں ۔ طرہ یہ کہ اس قسم کی سوشلزم کے مکمل نظام بھی تیار کرلئے گئے ہیں۔

اس نوع کی سوشلزم کی ایک مثال ہمیں پرودہون کی کتاب "افلاس کا فلسفہ " میں ملتی ہے۔بورژوا سوشلسٹ جدید سماجی حالات کے تمام فائدوں کو قائم رکھتا چاہتے ہیں، مگر اس جدوجہد کو اور ان خطروں کو نہیں جو ان کا لازمی نتیجہ ہیں۔ وہ سماج کی موجودہ صورت حال کو پسند کرنے ہیں بشرطیکہ اس کے انقلابی اور انتشار پیدا کرنے والے عناصر کو نکال دیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بورژوا طبقہ رہے مگر مزدور نہ ہوں ۔ ظاہر ہے کہ بورژوازی کی نظر میں سب سے اچھی دنیا وہی ہو گی جس میں خود اس کا تسلط ہو۔ اور بورژوا سوشلزم اس خوش آئند تصور کو فروغ دے کر کم و بیش کئی مکمل نظام مرتب کر لیتی ہے۔ مزدوروں سے جب اس کی تجویز کی جاتی ہے کہ اس نظام پر عمل کریں اور بیٹھے بٹھائے ایک نئی جنت میں پہنچ جائیں تو حقیقت میں کہنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مزدور موجودہ سماج کے دائرے کے اندر رہیں مگر بورژوا طبقے کے بارے میں نفرت بھرے خیالات اپنے دماغ سے نکال دیں۔

اس سوشلزم کی ایک اور زیادہ عملی صورت ہے لیکن اس میں نظر و ترتیب کی کمی ہے۔ وہ مزدژر طبقے کی نگٓہ میں ہر انقلابی تحریک کی وقعت کم کرنے کے لئے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ انہیں محض کسی سیاسی اصلاح سے نہیں بلکہ زندگی کی مادی حالتوں کو اور معاشی رشتوں کو بدلنے سے ہی کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن زندگی کی مادی حالتوں کو بدلنے سے ہی سوشلزم کی منشا ہر گز یہ نہیں ہو تا کہ پیداوار کے بوروژوا تعلقات مٹا دئے جائیں۔ یہ کام تو صرف انقلاب کے ذریعہ ہی پورا ہو سکتا ہے۔ اس کا مدعا موجودہ رشتوں کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی بنیاد پر نظم و نسق میں اصلاح کرنا ہے۔ان اصلاحات سے سرمایہ اور محنت کے رشتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ بہت ہوا تو بورژوا حکومت کے اخراجات میں کمی ہو سکتی ہے اور اس کے نظم و نسق میں زیادہ سہولت اور سادگی پیدا ہو سکتی ہے۔

بورژواسوشلزم کا اصلی اظہار اس وقت اور صرف اس وقت ہوتا ہے جب وہ محض ایک استعارے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے۔

آزاد تجارت! مزدور طبقے کی بھلائی کے لئے۔ حفاظتی محصول! مزدور طبقے کی بھلائی کے لئے۔ قید تنہائی! مزدور طبقے کی بھلائی کیلئے ۔ بورژوا سوشلزم ک حرف آخر یہی ہے اور یہی ایک ایسا حرف ہے جسے سنجیدگی کے ساتھ کہا گیا ہے۔

بورژوازی کا سوشلزم اس صداقت پر مشتمل ہے کہ بوروژوا ء بوروژوا ہے ،مزدور طبقے کی بھلائی کے لئے!

3۔ تنقیدی یوٹوپیائی سوشلزم اور کمیونزم

ہم یہاں اس ادب کا ذکر نہیں کرنا چاہتے جس نے آج کل کے ہر بڑے انقلاب میں پرولتاریہ کے مطالبوں کی آواز بلند کی ہے اور جس کی مثال بابیول وغیرہ کی تحریروں میں ملتی ہے۔

پرولتاریہ نے اپنے مقاصد پورا کرنے کی براہ راست کوشش پہلے پہل اس وقت کی جب ہر طرف ہلچل مچی ہوئی تھی اور جاگیر دار سماج کا قلعہ قمع کیا جا رہا تھا۔ ان کوششوں کا ناکام رہنا لازم تھا۔ کیونکہ اس وقت مزدور طبقہ زیادہ ترقی نہیں کرنے پایا تھا۔ اس کی نجات کے لئے جو معاشی حالتیں ضروری ہیں وہ بھی موجود نہ تھیں۔ انہیں ابھی وجود میں لانا تھا اور آنے والا بورژوا عہد ہی انہیں وجود میں لا سکتا تھا۔ پرولتاریہ کی ان ابتدائی تحریکوں کے ساتھ جو انقلابی ادب پیدا ہو ا، اس کی نوعیت لازما رجعت پسند تھی۔ اس نے عام تر ک دنیا اور نہایت بھونڈی قسم کی سماجی برابری کی تعلیم دی۔

اصل میں جو سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظام کہلاتے ہیں یعنی جو سین سائمون فورئے اور اووین وغیرہ کی طرف منسوب ہیں وہ اس زمانے میں پیدا ہوئے تھے جب پرولتاریہ اور بورژوا طبقے کے درمیان جدوجہد نہایت ابتدائی اور بے ترقی یافتہ حالت میں تھی۔ اس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ (ملاحظہ ہو پہلا با ب بورژوا اور پرلتاریہ (

اس میں کوئی شک نہیں کہ ان نظاموں کے بانی طبقاتی اختلافوں سے بے خبر نہ تھے ۔ انہوں نے ان عناصر کو بھی دیکھا تھا جن کے عمل سے مروجہ سماج میں انتشار پیدا ہو رہا ہے ۔ لیکن پرولتاریہ اس وقت تک اپنی طفولیت کے عالم میں تھا اور اس میں ان کو ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے جن سے معلوم ہو کہ اس طبقے میں تاریخی پیش قدمی یا آزاد سیاسی تحریک کا مادہ موجود ہے۔

چونکہ طبقاتی تصادم صنعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے، اس لئے ان لوگوں کو اپنے تصادم کو اپنے وقت کی اقتصادی صورت حال میں وہ مادی حالتیں نہیں ملیں جو پرولتاریہ کی نجات کے لئے ضروری ہیں لہٰذاوہ ایک نئی سماجی سائنس کی، نئے سماجی قانون کی کھوج کرنے لگے جس سے ان حالتوں کو پیدا کیا جاسکے۔

تاریخی عمل کی جگہ ان کا اپنا ذاتی اختراعی عمل ہو گا، نجات کی تاریخی طور پر پیدا ہو نے والے حالتوں کی جگہ خیالی حالتیں، اور پرولتاریہ کی رفتہ رفتہ طبقے میں تنظیم کی جگہ سماج کی ایک ایسی تنظیم ہو گی جسے ان موجدوں نے خاص طور سے تیار کیا ہو۔ ان کے خیا ل میں مستقبل کی تاریخ یہ ہے کہ ان کے سماجی منصوبوں کی تبلیغ کی جائے اور انہیں عملی جامہ پہنا یا جائے۔

اپنی تجویزوں کو مرتب کرنے میں وہ یہ احساس رکھتے ہیں کہ مزدور طبقے کے مفاد کا خاص دھیان رکھیں کہ وہ سب سے زیادہ مصیبت زدہ طبقہ ہے ان کی نگاہ میں پرولتاریہ کی حثییت صرف اتنی ہے کہ یہ غریب سب سے زیادہ مصیبت کا مارا ہو ہے۔

طبقاتی جدو جہد کی غیر ترقی یافتہ صورت اور پھر ان کے اپنے حلات زندگی ک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے سوشلسٹ اپنے آپ کو تمام طبقاتی اختلافوں سے بہت اونچا سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ سماج کے ہر فرد کی حالت سدھارنا چاہتے ہیں، ان کی بھی جنہیں دنیا کی ہر نعمت حاصل ہے۔ اسی لئے عموما وہ بلالحاظ طبقہ پورے سماج سے اپیل کرتے ہیں۔ یہی نہیں ۔ بلکہ حکمران طبقے سے اپیل کرنا زیادہ اچھ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ایک بار ان کے نظام کو سمجھ لینے کے بعد کیسے کوئی شخص انکار کر سکتا ہے کہ سماج کی بہتر سے بہتر حالت کا بہتر خاکہ یہ نہیں ہے ۔ اس لئے وہ تمام سیاسی اور خصوصا انقلابی عمل کو ٹھکراتے ہیں۔ وہ پرامن طریقے سے اپنے مقصد پورا کرنا چاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے تجربے کرکے، جن کا انجام ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا، مثال قائم کرکے سماجی پیغام کا راستہ صاف کریں۔

آنے والے سماج کی یہ خیالی تصویریں ایسے وقت کھینچی گئی تھیں جبکہ پرولتاریہ ابھی بہت پچھٹری ہوئی حالت میں تھا اور خود اس کے ذہن میں اپنی حیثیت کے متعلق بے سروپا خیالات بھرے ہوئے تھے۔ ان کا تعلق پرولتاریہ کے اس ابتدائی احساس سے تھا جو اس کے دل میں پورے سماج کی نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لئے پیدا ہو رہا تھا۔

لیکن ان سوشلسٹ اور کمیونسٹ مطبوعات میں ایک تنقیدی پہلو بھی موجود ہے۔ وہ موجودہ سماج کے ہر اصول پر اوار کرتے ہیں ۔ لہٰذامزدور طبقے کی تعلیم کے لئے ان میں نہایت پیش قیمت مواد بھرا پڑا ہے۔ ان میں جو عملی تدبیریں پیش کی گئی ہیں مثلا یہ کہ شہر اور دیہات کی تمیز اٹھا دی جائے ۔ خاندان، افراد کے فائدے کے لئے صنعتی کاروبار کا طریقہ اور اجرتی نظام مٹا دئے جائیں، سماجی ہم اآہنگی پیدا کی جائے، ریاست جو کام انجام دیتی ہے ، ان کے بدلے محض پیداوار کی دیکھ بھال کا کام رہنے دیا جائے۔ یہ سب تجویزیں صرف یہ بتا رہی ہیں کہ طبقاتی اختلافات مٹ جائینگے ۔ مگر اس وقت صرف انہوں نے ابھی ابھرنا ہی شروع کیا تھا اور ان مطبوعات میں ان کی بالکل ابتدائی غیر واضح اور نہایت مبہم صورت دکھائی دیتی ہے ۔ اس لئے یہ تجویزیں محض یوٹوپیائی حیثیت رکھتی ہیں۔

تنقیدی یوٹوپیائی سوشلزم اور کمیونزم کی اہمیت میں اور تاریخی نشوونما میں الٹا تعلق ہے۔ جدید طبقاتی جدوجہد سے ان کی بے بنیاد علیحدگی اور اس کی بے سروپا مخالفت اپنی عملی قدر و قیمت اور نظریاتی جواز کھوتی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ ان نظاموں کے بانی کئی اعتبار سے انقلابی تھے مگر ان کے پیرو بلااستشنا ء محض رجعت پسند ہو کررہ گئے ہیں ۔ وہ اپنے استاد کے خیالات پر جوں کے توں جمے رہتے ہیں اور مزدورطبقے کی بڑھتی ہوئی تاریخی نشوونما کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس لئے وہ مسلسل طبقاتی کشمکش کو ختم کرنے اور طبقاتی اختلافات کا تصفیہ کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ ابھی تک اپنے تجربوں کے ذریعہ اپنے سماجی یوٹوپیائی منصوبوں کو پورا کرنے کا خواب دیکھتے ہیں ۔ وہ الگ الگ" فلانستر "قائم کرنا، گھریلو نوآبادیوں ( Home colonies) بسانا، چھوٹے چھوٹے ایکاریا ۔ (نئے یروشلم کا مختصر نمونہ) بنانا چاہتے ہیں۔ اور ان تمام ہوائی قلعوں کی تعمیر کے لئے مجبور ہوتے ہیں کہ بورژوازی کے جذبات سے اپیل کریں اور ان کے تھیلی شاہوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں ۔ اس طرح رفتہ رفتہ تنزل کرکے وہ بھی ان رجعت پسند یا قدامت پرست سوشلسٹوں کے زمرے میں جا ملتے ہیں جن کی تصویر اوپر کھینچی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنی باقاعدہ کتاب پرستی اور اپنی سماجی سائنس کے معجزانہ اثرات پر ایمان رکھتے ہیں جو جنون اور اوہام پرستی کی حد تک جا پہنچا ہے۔

اس لئے وہ مزدور طبقے کے ہر طبقے کے عمل کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں سماجی عمل کا راستہ وہی لوگ اختیار کر سکتے ہیں جو تعصب سے اندھے ہو جائیں اور ان کی نئی بشارت کو ماننے سے انکار کریں۔ اس لئے انگلستان میں اووین اور فرانس میں فورئے کے نام لیوا چارٹسٹوں اور اصلاح پسندوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

4۔ حکومت کی دوسری مخالف پارٹیوں سے کمیونسٹوں کا تعلق

دوسرے باب میں وضاحت کی چکی ہے کہ مزدور طبقے کی موجودہ پارٹیوں سے جیسے انگلستان میں چارٹسٹوں اور شمالی امریکہ میں زرعی اصلاح پسندوں سے کمیونسٹوں کے تعلقات کیا ہیں۔

کمیونسٹ جدوجہد اس لئے کرتے ہیں کہ مزدور طبقے کے فوری مقصد حاصل ہوں، ان کے عارضی مفاد پورے کئے جا سکیں۔ لیکن حال کی تحریک میں وہ اس تحریک کے مستقبل کی بھی ترجمانی کرتے ہیں اور اس کا دھیان رکھتے ہیں۔ فرانس میں کمیونسٹ قدامت پرست اور ریڈیکل بورژوازی کے خلاف سوشل ڈیموکریٹوں سے ایکا کرتے ہیں۔

مگر انقلاب فرانس سے جو پر فریب الفاظ اور موہوم امیدیں منتقل ہوتی ہیں، ان پر رائے زنی کرنے کا حق انہوں نے نہیں چھوڑا ۔ سوئزرلینڈ میں وہ ریڈیکل پارٹی کی مدد کرتے ہیں۔ مگر اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرتے کہ یہ پارٹی متضاد عناصرسے مل کر بنی ہے جس میں کچھ تو فرانسیسی قسم کے جمہوری سوشلسٹ ہیں اور کچھ ریڈیکل بورژوا۔

پولینڈ میں وہ اس پارٹی کے مدد گار ہیں جو زرعی انقلاب پر زور دیتے ہیں کہ یہی قومی نجات کی شرط اول ہے۔ 1846میں اسی پارٹی نے کراکف میں بغاوت کی آگ بھڑکائی تھی۔

جرمنی میں بورژوا طبقہ جب کبھی کسی انقلابی راستے پر قدم رکھتا ہے اور مطلق العنان بادشاہت جا گیردار زمین داری اور رجعت پسند پیٹی بورژوازی کے خلاف انقلابی کاروائی کرتا ہے تو کمیونسٹ اس کے ساتھ مل کر لڑتے ہیں۔

لیکن ایک لمحے کے لئے بھی وہ یہ نہیں بھولتے کہ بورژوا اور پرولتاریہ کی بنیادی دشمنی کا خیال نہایت مضبوطی کے ساتھ مزدور طبقے کے دل میں بٹھا دیں تاکہ جب وقت آئے تو جرمن مزدور ان سماجی اور سیاسی حالات کو جسے بورژوا طبقہ اپنے اقتدار کے ساتھ لازما قائم کرے گا، خود بورژوا طبقے کے خلاف ہتھیار بن کر استعمال کریں اور جرمنی میں رجعت پسند طبقوں کے زوال کے بعد خود بورژو طبقے کے خلاف لڑائی فوراً شروع کر دی جائے۔

کمیونسٹوں کی نظر سب سے زیادہ جرمنی پر لگی ہوئی ہے۔ کیونکہ اولاً اس ملک میں بورژوا انقلاب کی گھڑی آپہنچی ہے اور یہ انقلاب لازما یورپی تہذیب کے بہت زیادہ ترقی یافتہ حالات میں اور ایک ایسے پرولتاریہ کے ساتھ ہو گا جو سترھویں صد ی کے انگلستا ن اور اٹھارھویں صدی کے فرانس کے پرولتاریہ کی بہ نسبت بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ اور دوسرے اس لئے بھی کہ جرمنی میں بورژوا انقلاب اپنے فور بعد آنے والے پرولتاری انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ مختصر یہ کہ کمیونسٹ ہر جگہ موجود ہ سماجی اور سیاسی نظام کے خلاف ہر انقلابی تحریک کی مدد کرتے ہیں۔

وہ ان تمام تحریکوں کا سب سے اہم سوال، یعنی ملکیت کا سوال، سامنے لاتے ہیں خواہ تحریک اس وقت کسی بھی مرحلے میں کیوں نہ ہو۔

اور سب سے آخر میں یہ کہ کمیونسٹ ہمیشہ تمام ملکوں کی جمہوری پارٹیوں میں اتحاد اور یک جہتی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے خیالات اور مقاصد کو چھپانا کمیونسٹ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ برملا اعلان کرتے ہیں کہ ان کا اصلی مقصد اسی وقت پورا ہو سکتا ہ۔ جبکہ موجودہ سماجی نظام کا تختہ بزور الٹ دیا جائے ۔ حکمرا ن طبقے کمیونسٹ انقلاب کے خوف سے کانپ رہے ہوں تو کانپیں ۔ مزدوروں کوا پنی زنجیروں کے سوا کھونا ہی کیا ہے اور جیتنے کو ساری دنیا پڑی ہے۔

دنیا کے مزدورو ، ایک ہو!


1872 ء کے جرمن ایڈیشن ک دیباچہ

"کمیونسٹ لیگ " نے جو کہ مزدوروں کی ایک بین اقوامی جماعت تھی اور جو اس وقت کے حالات میں خفیہ جماعت ہی ہو سکتی تھی۔ نومبر 1847 میں لندن میں اپنی کانگرس میں ہمیں اس بات پر مامور کیا کہ پارٹی کا ایک مفصل نظریاتی اور عملی پروگرام اشاعت کے لئے تیار کریں۔ اس طرح اس " مینی فسٹو " کا جنم ہوا۔ اس ک مسودہ فروری انقلاب سے چند ہفتے پہلے چھپنے کے لئے لندن بھیجا گیا۔ پہلے یہ جرمن زبان میں چھپا اور اس زبان میں مرتب سے اب تک جرمنی انگلینڈ اور امریکہ میں اس کے کم از کم بارہ مختلف ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ انگریزی میں یہ سب سے پہلے 1850 میں Red Republican, میں لندن میں چھپا ۔اس کا ترجمہ مس ہیلن میکرلین نے کیا تھا۔پھر 1871ء میں امریکہ میں اس کے کم از کم تین مختلف انگریزی ترجمے چھپے ۔ فرانسیسی ترجمہ پہلے پہل 1848 ء میں پیرس میں جون بغاوت سے کچھ پہلے اور حال میں نیویارک کے LeSocialiste میں بھی شائع ہو اہے۔ ایک نیا ترجمہ بھی تیار ہو رہا ہے۔ جرمن زبان میں پہلی مرتبہ شائع ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد پولش زبان میں بھی اس کا ترجمہ لندن میں شائع ہوا۔ 1860 ء کے بعد کے برسوں میں جنیوا میں اس کا روسی ترجمہ شائع ہوا۔ اس کی پہلی اشاعت کے بعد جلد ہی ڈینش زبان میں بھی اس کا ترجمہ ہوا۔

گذشتہ پچیس برسوں میں حالات میں کتنی ہی تبدیلیاں ہوئی ہوں مگر جو عام اصول اس " مینی فسٹو " میں قائم کئے گئے تھے ۔ وہ بحیثیت مجموعی آج بھی اسی قدر صحیح ہیں جتنے پہلے تھے ۔ بعض تفصیلات میں کہیں کہیں اصلاح کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ ان بنیادی اصولوں کو عملی جامہ پہنانا۔ جیسا کہ خود " مینی فسٹو" میں کہ گیا ہے۔ ہر جگہ اور ہمیشہ اس وقت کے تاریخی حالات پر منحصر ہے اور اسی وجہ سے دوسرے باب کے آخر میں جو انقلابی تدبیریں پیش کی گئی ہیں ان پر کوئی خاص زور نہیں دیا گیا ہے۔ وہ حصہ اگر آج لکھا جائے تو کئی لحاظ سے بہت مختلف ہو گا۔ چونکہ گذشتہ پچیس برسوں میں بڑے پیمانے کی صنعت نے بڑے زبردست قدم اٹھائے ہیں اور اسی کے ساتھ مزدور طبقے کی پارٹی تنظیم نے بھی ترقی کی ہے اور پھیلی ہے۔ چونکہ فروری انقلاب میں اور پھر اس سے بھی زیادہ پیرس کمیون میں عملی تجربات حاصل ہوئے ہیں۔ جبکہ پہلی دفعہ سیاسی اقتدار پورے دو مہینوں تک پرولتاریہ کے ہاتھوں میں رہا اس لئے یہ پروگرام اب بعض تفصیلات میں پرانا ہو گیا ہے۔ کمیون نے خصوصیت کے ساتھ یہ بات ثابت کی کہ مزدور طبقے کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ بنی بنائی ریاستی مشینری کو اپنے ہاتھوں میں محض لے لے اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرے ۔ پھر یہ بجائے خود ظاہر ہے کہ موجود ہ زمانے کے اعتبار سے سوشلسٹ ادب کی تنقید ناکافی ہے۔ کیونکہ وہ 1847 تک ہی رک جاتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ چوتھے باب میں مختلف مخالف پارٹیوں سے کمیونسٹوں کے تعلق کے بارے میں جو با ت کہی گئی ہے۔ وہ صولاً اگرچہ اب بھی صحیح ہے، تاہم عملً جزوی طور پر پرانی ہو چکی ہے کیونکہ سیاسی حالت بالکل بدل گئی ہے او رمینی فسٹو میں جن سیاسی پارٹیوں کا نام لیا گیا ہے۔ ان میں سے اکثر و بیشتر کو تاریخ کے ارتقا نے صفحہ زمین سے مٹا دیا ہے۔

 لیکن یہ مینی فسٹو تو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس میں رد بدل کرنے کا اب ہمیں کوئی حق نہیں۔ آئندہ ایڈیشن شاید ایک مقدمے کے ساتھ شائع ہو جو 1847ء سے آج تک کے خلا کو پر کر سکے۔ موجود ہ اشاعت اتنی غیر متوقع تھی کہ ہمیں اس کی مہلت نہیں ملی۔

کارل مارکس۔فریڈرک اینگلز۔لند ن 24جون 1872

1882ء کے روسی ایڈیشن ک دیباچہ

" کمیونسٹ پارٹی کے مینی فسٹو" کا پہلا روسی ایڈیشن جو با کونن کا ترجمہ کی ہوا تھا۔ "کولو کول" کے چھاپہ خانے سے 1860ء کے بعد پہلے سالوں میں شائع ہوا۔ ان دنوں مغربی یورپ کے لوگ مینی فسٹو کے روسی ایڈیشن کو محض ایک ادبی عجوبے کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ آج ایسی بات سوچی نہیں جاسکتی۔ اس زمانے میں (دسمبر 1847ء تک)پرولتاری تحریک کا دائرہ کتنا محدود تھا۔ یہ مینی فسٹو کے آخری باب سے ظاہر ہے۔ جس کا عنوان ہے۔"حکومت کی دوسری مخالف پارٹیوں سے کمیونسٹوں ک تعلق " ۔ اس میں روس اور ریاستہائے متحدہ امریکہ ان دونوں ملکوں ہی کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روس تمام یورپی رجعت پرستی کا آخری بڑا قلعہ تھا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ تارکین وطن کے ذریعے یورپ کی فاضل پرولتاری آبدی کو اپنے اندر جذب کر رہا تھا۔ دونوں ملک یورپ کو کچا مال مہیا کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ان کی منڈیوں میں یورپ کا صنعتی سامان بکتا تھا۔ لہٰذااس زمانے میں دونوں ملک کسی نہ کسی طور سے مروجہ یورپی نظام کا سہارا بنے ہوئے تھے۔

آج حالت کتنی بدل چکی ہے۔ یورپ سے آبادی کے منتقل ہو کر آنے سے ہی شمالی امریکہ عظیم الشان زرعی پیداوار کے قابل بنا۔ جس کا مقابلہ یورپ کی بڑی اور چھوٹی ملکیت آراضی کی ساری بنیادوں کو ہی ہلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو موقع دیا کہ اپنے زبردست صنعتی وسیلوں کا استحصال اتنی سرگرمی کے ساتھ اور ایسے پیمانے پر کرے۔ جس سے مغربی یورپ اور خاص کر انگلینڈ کا اب تک کا صنعتی اجارہ تھوڑے ہی دنوں میں ٹوٹ جائے ۔ ان دونوں باتوں کا خود امریکہ پر انقلابی اثر ہورہاہے۔ کاشتکاروں کی چھوٹی اور درمیانی ملکیت آراضی ،جو کہ اس کے تمام سیاسی نظام کی بنیاد ہے، عظیم الشان فارموں کے مقابلے میں رفتہ رفتہ زیر ہوتی جارہی ہے۔ اسی کے ساتھ صنعتی علاقوں میں پہلی بار پرولتاریہ کی کثیر تعداد اور سرمایوں کا بے انتہا ارتکاز ہوتا جا رہا ہے۔

اور اب روس! 1848-49 ء کے انقلاب کے دوران صرف یورپی شاہوں کو ہی نہیں بلکہ یورپی بورژوازی کو بھی پرولتاریہ سے جو کہ ابھی ابھی بیدار ہونے لگا تھا۔ نجات کی ایک ہی صورت دکھائی دی اور وہ تھی روس کی مداخلت! زار کو یورپی رجعت پرستی کا سربراہ مان لیا گیا تھا۔ آج وہ انقلاب کا قیدی ہے، گاٹچینا میں، اور روس یورپ میں انقلابی تحریک کا ہراول دستہ ہے۔

کمیونسٹ مینی فیسٹو کا مقصد یہ اعلان کرنا تھا کہ جدید بورژوا ملکیت ک شیرازہ عنقریب منشتر ہو کر ہی رہے گا۔ لیکن روس میں ہم دیکھتے ہیں کہ تیزی سے بڑہتے ہوئے سرمایہ دارانہ فریب اور بورژوا ملکیت آراضی کے مقابلے میں جس ک ابھی آغاز ہی ہوا ہے آدھے سے زیادہ زمین کسانوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اب سوال یہ ہے کیا: کیا روسی "ابشچینا" جو زمین کی ابتدائی مشترکہ ملکیت کی ایک صورت ہے او ر جس کی جڑیں بہت کچھ کھو کھلی ہو چکی ہیں، بدل کر براہ راست کمیونسٹ مشترکہ ملکیت کی اعلی صورت اختیار کرے گی ؟ اس کے برعکس کیا اس کو بھی انتشار کے عمل سے گذرنا ہو گا؟ کیااس طرح مغرب کے تاریخی ارتقا میں ہو تھا؟

آج اس سوال کا ایک ہی جواب دیا جا سکتا ہے۔ اگر انقلاب روس مغرب میں ایک پرولتاری انقلاب کے لئے شمع کا کام دے اور اس طرح دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کریں تو ہو سکتا ہے کہ روس میں زمین کی موجودہ برادری والی ملکیت وہ نقطہ بن جائے جہاں سے کمیونسٹ نشوو نما شروع ہو۔

کارل مارکس۔ فریڈرک اینگلز، لندن ۔ 21 جنوری 1882

1883ء کے جرمن ایڈیشن ک دیباچہ

افسوس کہ موجودہ ایڈیشن کا دیباچہ مجھے اکیلے لکھنا ہو گا۔ مارکس، جس کا یورپ اور امریکہ کا سار مزدور طبقہ جتنا ممنون احسان ہے اتنا کسی کا نہیں، آج ہائی گیٹ کے قبرستان میں سو رہا ہے۔ اور اس کی قبر پر اب گھاس بھی اگنے لگی ہے۔ اس کے مرنے کے بعد تو اب مینی فیسٹو میں ترمیم یا اضافے کی بات سوچی ہی نہیں جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس موقع پر پھر ایک بات صاف کر دینا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔

مینی فیسٹو کے اندر جو بنیادی خیال کام کر رہا ہے یعنی یہ کہ ہر تاریخی عہد میں اقتصادی پیداوار اور اس سے لازمی طور پر پیدا ہونے والا سماج کا ڈھانچہ، اس عہد کی سیاسی اور ذہنی تاریخ کے لئے بنیاد کا کام دیتا ہے، اور اسی ک نتیجہ ہے کہ (زمین کی ابتدائی برادری والی ملکیت کے منتشر ہونے کے بعد) سار ی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے اس جدوجہد کی جو استعمال کرنے والوں اور استحصال کئے جانے والوں میں ۔ حاکم اور محکوم طبقو ں میں سماجی ارتقا کی مختلف منزلوں پر ہوتی رہی ہے لیکن یہ جدو جہد اب ایک ایسی منزل پر پہنچ گئی ہے جبکہ وہ طبقہ جس کا استحصال کیا جاتا ہے اور جو مظلوم ہے (یعنی پرولتاریہ) اپنے ظالموں اور استحصال کرنے والوں سے (یعنی بورژوا طبقے سے) اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک اپنے ساتھ پورے سماج کو ہمیشہ کے لئے استحصال، ظلم اور طبقاتی جدوجہد سے چھٹکار نہ دلا دے ۔ یہ بنیادی خیال مارکس کی اپنی اور مخصوص دین ہے۔

یہ بات میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں ۔ لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اسے خود مینی فیسٹو کی ابتدا میں درج کر دیا جائے۔

فریڈرک اینگلز ۔لند ن 28 جون 1883

1888کے انگریزی ایڈیشن ک دیباچہ

یہ مینی فیسٹو" کمیونسٹ لیگ " کے پروگرام کے طور پر شائع ہو اتھا۔ کمیونسٹ لیگ مزدورں کی جماعت تھی جو ابتدا میں صرف جرمنوں تک محدود تھی مگر آگے چل کر بین اقوامی ہو گئی۔ یہ انجن خفیہ تھی کیونکہ اس وقت 1848 کے پہلے کے براعظم یورپ کے سیاسی حالات میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ نومبر 1847میں تیار ہوا اور 24 فروری 1848 کے فرانسیسی انقلاب سے چند ہفتے پہلے لندن کے ایک چھاپہ خانے میں بھیج دیا گیا۔ جون 1848 کی بغاوت سے کچھ پہلے پیرس میں اس ک فرانسیسی ترجمہ شائع ہوا۔ پہلا انگریزی ترجمہ مس ہیلن میکفرلین کا کیا ہو تھا۔ جو لندن میں 1850ء میں جارج جولین ہارنی کے Red Republican میں شائع ہوا۔ ڈینش اور پولش زبانوں میں بھی اس کے ترجمے شائع ہوئے۔

جون 1848ء میں پیرس کی بغاوت میں جو کہ پرولتاریہ اور بورژوازی کے درمیان پہلی بڑی لڑائی تھی باغیوں کو شکست ہوئی اور کچھ عرصے کے لئے یورپ کے مزدور طبقے کے سماجی اور سیاسی مطالبات دبادئے گئے۔ اور غلبہ حاصل کرنے کی کش مکش جس طرح فروری انقلاب سے پہلے ہوا کرتی تھی، اسی طرح اب پھر صرف دولتمند طبقے کے مختلف گروہوں میں ہونے لگی۔ اس کے بعد سے مزدور طبقے کی جدوجہد کا مقصد صرف یہ رہ گیا کہ سیاست کے میدان میں اسے پاؤں رکھنے کی جگہ مل سکے اور اس ک درجہ اتنا گر گیا کہ اس نے درمیانی طبقے کے ریڈیکل عناصر کے ایک انتہا پسند گروہ کر حیثیت اختیار کر لی۔ جہاں کہیں پرولتاریہ کی آزاد تحریکوں میں زندگی کے آثار نظر آئے ۔ انہیں بے دردی سے کچل دیا گیا۔ چناچہ کمیونسٹ لیگ کی مرکزی کمیٹی کا جو ان دنوں کولون (جرمنی) میں تھی۔ پروشیا کی پولیس نے پتہ لگا لی ۔ اس کے ممبروں کو گرفتار کر لیا گیا اور اٹھارہ مہینوں کی حراست کے بعد اکتوبر 1852ء میں ان پر مقدمہ چلا۔ یہ مشہور و معروف کولون کا کمیونسٹ مقدمہ 4 اکتوبر سے 12نومبر تک چلتا رہا۔ سات ملزموں کو قلعے میں قید کئے جانے ک حکم ملا۔ سزا کی میعادتین برس سے لیکر چھ برس تک تھی۔ فیصلہ سننے کے بعد فور ہی باقی ممبروں نے لیگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ اور جہاں تک مینی فیسٹو کا تعلق تھا ، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کی قسمت میں اب ہمیشہ گمنامی لکھی ہے۔

 یورپ کے مزدور طبقے میں جب پھر اتنی طاقت آگئی کہ حکمران طبقوں پر نئے سرے سے حملہ کر سکے تو انٹرنیشنل ورکنگ مینز ایسوسی ایشن (مزدوروں کی بین اقوامی جماعت) قائم ہوئی۔ یہ جماعت خاص اس غرض سے قائم کی گئی تھی کہ یورپ اور امریکہ کے سارے مجاہد پرولتاریہ کو ایک جماعت میں منظم کیا جا سکے۔ یہ جماعت یکایک ان اصولوں کا اعلان نہیں کر سکتی تھی جو مینی فیسٹو میں دئے گئے ہیں۔ انٹرنیشنل کے پروگرام کو اتنا وسیع ہونا تھا کہ انگریز ٹریڈ یونین بھی اسے قبول کر سکیں اور فرانس بلجیم اٹلی اور اسپین میں پرودہوں کے پیرو اور جرمنی میں لاسال کے ما ننے والے بھی۔

  مارکس نے ایسا پروگرام مرتب کیا کہ اس پر وہ سب پارٹیاں مطمئن ہو سکیں۔ مارکس کو پورا بھروسہ تھا کہ ایک ساتھ مل کر کام کرنے اور آپس کے تبادلہ خیال سے لازمی طور پر مزدور طبقے کا ذہنی ارتقا ہو گا۔ سرمایہ کے خلاف جدوجہد کے واقعات ، اس کے اتار چڑھاؤ، اس کی کامیابیوں اور اس سے بھی بڑھ کر اس کی شکستوں کا یہ لازمی نتیجہ ہونا تھا کہ مزدور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ان کے پسندیدہ ہر مرض کے نسخے ناکافی ہیں اور تب یہ گنجائش ہو گی کہ ان صحیح حالات کی زیادہ مکمل سمجھداری پیدا ہو جو مزدور طبقے کی نجات کے لئے ضروری ہیں۔ مارکس کا خیال صحیح نکلا۔ 1874ء کے مزدور، جب انٹر نیشنل کا خاتمہ ہوا، 1864ء کے مزدوروں سے بہت مختلف تھے جب انٹر نیشنل کی بنیاد پڑی تھی۔ فرانس میں پرودھون کے اصول اور جرمنی میں لاسالیت دم توڑ رہے تھے،حتی کہ قدامت پرست انگریز ٹریڈ یونینیں بھی جن کی اکثریت انٹرنیشنل سے بہت پہلے الگ ہو چکی تھی، رفتہ رفتہ اس نقطہ نظر پر پہنچنے لگی تھیں جہاں گذشتہ سال سوانسی میں ان کی کانگرس کے صدر نے ان کی جانب سے یہاں تک کہہ دیا کہ "براعظم یورپ کی سوشلزم اب ہمارے لئے کوئی ڈراؤنی چیز نہیں رہی"ـ۔ غرضیکہ تمام ملکوں کے مزدوروں میں مینی فیسٹو کے اصولوں کی مقبولیت پہلے سے بہت بڑھ گئی۔

 چناچہ خود مینی فیسٹو پھر منظر عام پر آگیا۔ 1850ء کے بعد اصل جرمن مسودہ سوئزرلینڈ، انگلینڈ اور امریکہ میں کئی بار شائع ہوا۔ 1872ء میں نیویارک میں اس کاایک انگریزی ترجمہ کیا گیا اور Woodhull and Claflin's Weekly, میں شائع ہوا۔ اس انگریزی ترجمے سے نیویارک کے Le Socialiste میں ایک فرانسیسی ترجمہ شائع ہوا۔ اس کے بعد سے امریکہ میں کم از کم دو اور انگریزی ترجمے چھپ چکے ہیں اور ان میں سے ایک انگلینڈ میں بھی شائع ہوا ہے۔ لیکن یہ دونوں ترجمے کسی نہ کسی حد تک ناقص ہیں۔ روسی زبان میں پہلا ترجمہ باکونن نے کیا تھا جو 1863ء کے لگ بھگ ہرتسن کے کولو کول کے چھاپہ خانے سے جنیوا میں شائع ہوا۔ ایک دوسرا روسی ترجمہ بہادر ویر زاسولیچ نے کیا۔ جو جنیوا سے ہی 1883ء میں شائع ہوا۔ ڈینش زبان میں ایک نیا ایڈیشن 1885ء میں کوپن ہیگن کے Social - demokratisk Bibliothek, میں شائع ہوا۔ پیرس کے Le, Socialiste, میں ایک نیا فرانسیسی ترجمہ 1885ء میں شائع ہوا ۔ اسی فرانسیسی ترجمے سے ایک اسپینی ترجمہ کیا گیاجو میڈرڈ سے 1886ء میں شائع ہوا۔ جرمن زبان میں تو کوئی شمار ہی نہیں کہ اس کے کتنے ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس زبان میں یہ کم از کم بارہ مرتبہ چھپ چکا ہے۔ چند مہینے پہلے قسطنطنیہ میں ارمینی زبان میں ایک ترجمہ شائع ہونے والا تھا لیکن نہیں ہو سکا۔کہا جاتا ہے کہ ناشر مارکس کے نا م سے چھاپتے ہوئے ڈرتا تھا اور مترجم مینی فیسٹو کو اپنی تصنیف بتانے پر آمادہ نہیں تھا۔ میں نے سنا ہے کہ اور متعد د زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ترجمہ میری نظر سے نہیں گذرا۔ اس طرح مینی فیسٹو کی تاریخ بڑی حد تک جدید مزدور تحریک کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل تمام سوشلسٹ ادب میں یہی سب سے زیادہ مقبول عام اور بین اقوامی تصنیف ہے۔

 یہی ایک ایسا عام پروگرام ہے جسے سائبیریا سے کیلی فورنیا تک کروڑوں محنت کش مانتے ہیں، پھر بھی جس وقت یہ مینی فیسٹو لکھا گیا تھا ، ہم اسے سوشلسٹ مینی فیسٹو نہیں کہہ سکتے تھے۔ 1847ء میں سوشلسٹ سے مراد ایک طرف تو وہ لوگ تھے جو مختلف قسم کے یوٹوپیائی نظاموں سے عقیدت رکھتے تھے، جیسے انگلینڈ میں اووین اور فرانس میں فورئیے کے ماننے والے۔ ان دونوں کی محض چھوٹی چھوٹی ٹولیاں رہ گئی تھیں جو رفتہ رفتہ مٹتی جارہی تھیں۔ دوسری طرف بھانت بھانت کے سماجی نیم حکیم تھے جن کا دعوی تھا کہ طرح طرح کے جوڑ پیوند لگا کر وہ سرمایہ اور نفع کو ذرا بھی نقصان پہنچائے بغیر ہر قسم کی سماجی خرابیاں دور کر سکتے ہیں ۔ یہ دونوں ہی قسم کے لوگ مزدور تحریک سے باہر تھے اور مدد کے لئے پڑھے لکھے طبقوں کا منہ تاکا کرتے تھے ۔ مزدور طبقے کے اندر جو لوگ محض تبدیلی کو ضروری مانتے تھے وہ اس زمانے میں اپنے آپ کو کمیونسٹ کہتے تھے ۔ یہ ایک بھد ی سی ان گھڑ خالص جبلی کمیونزم تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس نے مسئلے کا چھور پا لیا تھا اور مزدور طبقے میں اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ اس سے فرانس میں کابے اور جرمنی میں وائیٹلنگ کی یوٹوپیائی کمیونزم پیدا ہوئی ۔ غرضیکہ 1847 ء میں سوشلزم بورژوا تحریک تھی اور کمیونزم مزدور طبقے کی۔ سوشلزم کم از کم براعظم یورپ میں نیک نام تھی کمیونزم کاحال اس کے برعکس تھا۔ اور ہمارا خیال شروع ہی سے یہ تھا کہ مزدور طبقے کی نجات مزدور طبقے کااپن کام ہے چناچہ ہمیں یہ طے کرنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوا کہ ہم سوشلزم اور کمیونزم میں کون سا نام اختیار کریں۔ اس سے بڑھ کر ہمیں بعد کو کبھی اس نام کو ترک کرنے کا خیال نہیں آیا۔

 مینی فیسٹو میں نے اور مارکس نے مل کر لکھا تھا پھر بھی آج میں یہ بت دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ وہ مرکزی تصور جس پر اس مینی فیسٹو کی بنیاد ہے مارکس کا ہے۔ وہ تصور یہ ہے کہ ہر تاریخی عہد میں اقتصادی پیداوار اور تبادلے کا جو طریقہ رائج ہوتا ہے اور اس سے لازمی طور پر جو سماجی ڈھانچہ بنتا ہے، وہی بنیاد ہے جس پر اس عہد کی سیاسی اور ذہنی تاریخ مرتب ہوتی ہے اوراسی سے اس کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے۔ چناچہ قدیم قبائلی سماج کے ٹوٹنے کے بعد جس میں زمین کی برداری والی ملکیت کا رواج تھا۔بنی نوع انسان کی ساری تاریخ طبقاتی جدو جہد کی تاریخ یعنی استحصال کرنے والوں اور استحصال کے شکار لوگوں حکمران اور مظلوم طبقوں کے باہمی مقابلے کی تاریخ ہے۔ اس طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ارتقا کے کئی مدارج سے ہو کر گذری ہے ۔ اور آج وہ منزل آپہنچی ہے جبکہ استحصال کیا جانے والا مظلوم طبقہ یعنی پرولتاریہ، استحصال کرنے والے ظالم طبقہ یعنی بورژوا کے پنجے سے اس وقت تک نجات نہیں پا سکتا جب تک کہ اپنے ساتھ پورے سماج کو ہمیشہ کے لئے ہر قسم کے استحصال ظلم طبقاتی امتیاز اور طبقاتی جدوجہد سے چھٹکارا نہ دلائے۔ میری رائے میں تاریخ کے لئے یہ خیال وہی کچھ کرے گا جو حیاتیات کے لئے ڈارون کے نظریے نے کیا۔ مارکس اور میں دونوں 1845 سے کئی برس پہلے ہی رفتہ رفتہ اس نتیجے پر پہنچنے لگے تھے۔ بذات خود میں کہاں تک اس نتیجے پر پہنچا تھا۔ اس کا اندازہ میری کتاب "انگلینڈ میں مزدور طبقے کی حالت ـ"

The Condition of the Working Class in England in 1844,by Frederick Engels. Translated by Florence K. Wischnewetzky, New York, Lovell-London,W.Reeves.1888) اینگلز کا حاشیہ) سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ لیکن 1845 ء کے موسم بہار میں جب میں دوبارہ مارکس سے برسلز میں ملا تو وہ یہ نتیجہ مرتب کر چکا تھا اور میں نے ابھی جن الفاظ میں اس کا ذکر کیا ہے تقریب ان ہی واضع الفاظ میں اس نے اسے میرے سامنے پیش کیا تھا ۔

1872 ء کے جرمن ایڈیشن کے لئے ہم دونوں نے مل کر جو دیباچہ لکھا تھا اس سے ایک ٹکڑا میں یہاں نقل کرتا ہوں۔

"گذشتہ پچیس برسوں میں حالات میں کتنی ہی تبدیلیاں ہوئی ہوں مگر جو عام اصول اس مینی فیسٹو میں قائم کئے گئے تھے ۔ وہ بحیثیت مجمو عی آج بھی اسی قدر صحیح ہیں جتنا پہلے تھے۔ بعض تفصیلات میں کہیں کہیں اصلاح کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ ان اصولوں کو عملی جامہ پہنانا جیسا کہ خود مینی فیسٹو میں کہا گیا ہے ، ہر جگہ اور ہمیشہ اس وقت کے تاریخی حالات پر منحصر ہے اور اسی وجہ سے دوسرے باب کے آخر میں جو انقلابی تدبیریں پیش کی گئی ہیں ان پر کوئی خاص زور نہیں دی گیا ہے۔ وہ حصہ اگر آج لکھا جائے تو کئی لحاظ سے بہت مختلف ہوگا۔ چونکہ 1848ء کے بعد جدید صنعت نے بڑے زبردست قدم اٹھائے ہیں اور اسی کے ساتھ مزدور طبقے کی پارٹی تنظیم نے بھی ترقی کی ہے اور پھیلی ہے ۔ چونکہ فروری انقلاب میں اور پھر اس سے بھی زیادہ پیرس کمیون میں عملی تجربات حاصل ہوئے ہیں جبکہ پہلی دفعہ سیاسی اقتدار پورے دو مہینوں تک پرولتاریہ کے ہاتھوں میں رہا اس لئے یہ پروگرام اب بعض تفصیلات میں پرانا ہو گیا ہے۔ کمیون نے خصوصیت کے ساتھ یہ بات ثابت کی کہ مزدور طبقے کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ بنی بنائی ریاستی مشینری کو اپنے ہاتھوں میں محض لے لے اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرے ۔"

دیکھئے:
The Civil War in France; Address of the General Council of the International Working - men's Association. London, True love, 1871, p. 15

"اس میں اس خیال پر پوری روشنی ڈالی گئی ہے۔) پھر یہ بجائے خود ظاہر ہے کہ موجودہ زمانے کے اعتبار سے سوشلسٹ ادب کی تنقید ناکافی ہے کیونکہ وہ 1847 تک ہی رک جاتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ چوتھی باب میں مختلف مخالف پارٹیوں سے کمیونسٹوں کے تعلق کے بارے میں جو بات کہی گئی ہے وہ اصولا اگرچہ اب بھی صحیح ہے تاہم عملا جزوع طور پر پرانی ہو چکی ہے کیونکہ سیاسی حالت بالکل بدل گئی ہے اور مینی فیسٹو میں جن سیاسی پارٹیوں کا نام لیا گیا ہے ان میں سے اکثر تاریخ کے ارتقا نے صفحہ زمین سے مٹا دیا ہے۔ لیکن یہ مینی فیسٹو تو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس میں ردوبدل کرنے کا اب ہمیں کوئی حق نہیں۔ زیر نظر انگریزی ترجمہ مسٹر سمیوئل مور نے کیا ہے۔ وہ مارکس کی کتاب سرمایہ کے ایک بڑے حصے کے بھی مترجم ہیں ۔ نظرثانی ہم دونوں نے مل کر کی ہے۔ میں نے کہیں حاشیے پر تاریخی واقعا ت کی تشریح کر دی ہے۔ "

فریڈرک اینگلز ۔ لندن 30 جنوری 1888

1890ء کے جرمن ایڈیشن ک دیباچہ

مندرجہ بالا دیباچہ جب لکھا گیا تھا۔ اس کے بعد مینی فیسٹو کا ایک نیا جرمن ایڈیشن پھر ضروری ہو گیا ہے اور خود مینی فیسٹو پر بھی بہت کچھ بیتی ہے جس کو یہاں لکھنا چاہیے۔

ایک دوسرا روسی ترجمہ ویرا زاسولیچ کے قلم سے 1882ء میں جنیوا سے شائع ہوا۔ اس ایڈیشن کا دیباچہ مارکس اور میں نے لکھا تھا۔ بدقسمتی سے جرمن زبان میں اس کا اصل مسودہ گم ہو گیا ہے۔ اس لئے مجھے روسی سے دوبارہ ترجمہ کرنا پڑے گا۔ حالانکہ اس سے عبارت میں کوئی خوبی نہیں پیدا ہو گی۔ وہ دیباچہ یوں ہے:
[1882 کے روسی ایڈیشن کی دوبارہ اشاعت]

انہیں تاریخوں میں جنیوا میں ایک نیا پولش ترجمہ Manifest Kommunistycny, شائع ہوا۔ پھر Social - Demokratisk Bibliothek, میں ایک نیا ڈینش ترجمہ شائع ہوا۔ بدقسمتی سے یہ بالکل مکمل نہیں ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ جگہ جگہ لا پروائی برتی گئی ہے جو اور بھی ناخوشگوار حد تک نمایاں ہو گئی ہے کیونکہ ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مترجم نے کچھ اور محنت کی ہوتی تو اس کا کام بہت اچھ ہوتا۔ 1886ء میں پیرس کے Le, Socialiste, میں ایک نیا فرانسیسی ترجمہ شائع ہوا۔ اب تک شائع ہونے والے ترجموں میں یہ سب سے اچھا ہے۔ اسی فرانسیسی ترجمے سے ایک اسپینی ترجمہ اسی سال پہلے میڈرڈ کے Ei, Socialista, میں اور پھر علیحدہ کتابی صورت میں شائع:
Manifesto del Partido Comunista, por Carlos، Marx y F. Engels. Madrid. Administracion de Ei Socialista, Herman Cortes 8.

اس سلسلے میں ایک حیرت انگیز واقعے کا بھی ذکر کر دوں 1887ء میں مینی فیسٹو کے ایک ارمینی ترجمے کا مسودہ قسطنطنیہ کے ایک پبلشر کو دیا گیا۔ لیکن اس بھلے آدمی کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ مارکس کے نام سے کوئی چیز چھاپے۔ اس نے یہ تجویز کی کہ مترجم خود اپنا نام کتاب کے مصنف کی جگہ لکھ دے لیکن مترجم نے یہ منظور نہیں کیا۔ انگلینڈ میں کئی امریکی ترجمے بار بار چھپے۔ لیکن یہ سب کسی نہ کسی حد تک ناقص تھے۔ آخر 1888میں ایک مستند ترجمہ شائع ہوا۔ یہ میرے دوست سمیوئل مور نے کیا تھا۔ اور پریس میں بھیجنے سے پہلے ہم دونوں نے مل کر اس پر نظر ثانی کی۔ اس کا نام ہے۔
Manifesto of the Communist Party, by Kari Marx and Frederick Engels. Authorized English Translation, edited and annotated by Frederick Engels. 1888. London, William Reeves, 185 Fleet st. E.C, میں نے اس ایڈیشن کے کچھ حاشیے موجودہ ایڈیشن میں شامل کر دئے ہیں۔

مینی فیسٹو کی اپنی تاریخ ہے۔ شائع ہونے پر سائنٹفک سوشلزم کے آگوکاروں نے جن کی تعداد اس وقت زیادہ نہیں تھی، اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا (جیسا کہ پہلے دیباچے میں جن ترجموں کا ذکر ہے ان سے ظاہر ہوتا ہے۔) لیکن تھوڑے ہی دنوں میں جون 1848ء میں پیرس کے مزدوروں کی شکست کے ساتھ رجعت کا دور شروع ہوا تو مینی فیسٹو گمنامی میں پڑ گیا ۔ اور آخر کار جب نومبر 1852ء میں کولون کے کمیونسٹوں کو سز ہوئی تو مینی فیسٹو کو قانون کے مطابق راندہ ٔقانون قرار دیا گیا ۔ فروری انقلاب کے ساتھ جس مزدور تحریک کی ابتدا ہوئی تھی اس کے رخصت ہوتے ہی مینی فیسٹو بھی گمنامی میں پڑ گیا۔

یورپ کے مزدور طبقے میں جب پھر اتنی طاقت آگئی کہ حکمران طبقوں پر نئے سرے سے حملہ کر سکے تو انٹرنیشنل ورکنگ منی ایسوسی ایشن قائم ہوئی۔ اس کا مقصد یورپ اور امریکہ کے مزدور طبقے کی تمام مستعد اور مجاہد طاقتوں کو ملا کر ایک زبردست فوج تیار کرنا تھا۔ اس لئے اس کی ابتدا ان اصولوں سے نہیں ہو سکتی تھی جو مینی فیسٹو میں دئے گئے تھے۔ لاز م تھا کہ اس کا پروگرام ایسا ہو کہ انگلینڈ کی ٹریڈ یو نینوں فرانس بلجیم اٹلی اور اسپین کے پرودہوں کے نام لیو اور جرمنی کے لاسال والوں پر اس کے دروازے بند نہ ہو جائیں۔ یہ پروگرام جو کہ انٹرنیشنل کے قواعدوضوابط کی تمہید کی صورت میں تھا خود مارکس نے مرتب کی تھا اور ایسی استادی کے ساتھ کہ با کونن او ر انار کسٹوں کو بھی اس کا اعتراف کرنا پڑا ۔ مینی فیسٹو میں جو اصول پیش کئے گئے تھے ان کی قطعی کامیابی کے لئے مارکس کو مزدور طبقے کی ذہنی نشوونما پر پورا بھروسہ تھا جو متحدہ عمل اور تبادلہ خیال کا لازمی نتیجہ ہو سکتی تھی۔ سرمائے کے خلاف جدو جہد کے واقعات اس کے اتار چڑہاؤ اور کامیابیوں سے زیادہ اس کی شکستیں لڑنے والوں کو یہ بتائے بغیر نہ رہ سکیں کہ ان کے ہر مرض کے نسخے جن کو وہ اس وقت تک استعمال کرتے تھے بیکار ہیں اور اس طرح ان کے ذہن اس بات پر آمادہ ہوئے کہ مزدور طبقے کی نجات کے لئے جو صحیح شرطیں ہیں ۔ ان کی پوری سمجھداری حاصل کریں۔ مارکس کا خیال صحیح نکلا۔ 1874ء کا مزدور طبقہ جب انٹرنیشنل کا خاتمہ ہوا ۔1864ء کے مزدور طبقے سے بہت مختلف تھا جب انٹرنیشنل کی بنیاد پڑی تھی۔ لاطینی ملکوں میں پرودہوں کا مسلک اور جرمنی کی مخصوص لاسالیت دم توڑ رہی تھی اور انگلینڈ کی انتہائی قدامت پرست ٹریڈ یونینیں بھی رفتہ رفتہ اس نقطہ نظر پر پہنچنے لگی تھیں جہاں 1887ء میں سوانسی میں ان کی کانگرس کے صدر نے ان کی جانب سے یہاں تک کہہ دیا کہ براعظم یورپ کی سوشلزم اب ہمارے لئے کوئی ڈراؤنی چیز نہیں رہی۔ حالانکہ 1887ء میں براعظم کی سوشلزم سے مراد تقریبا محض وہ نظریہ تھا جسے مینی فیسٹو میں پیش کیا گیا تھا۔ غرضیکہ ایک حد تک مینی فیسٹو کی تاریخ 1848ء کے بعد سے جدید مزدور تحریک کی تاریخ ہے۔ اس وقت بلاشبہ سوشلسٹ ادب میں مینی فیسٹو کی اشاعت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہی اس ادب کا سب سے زیادہ بین الاقوامی کارنامہ ہے اور سائیبریا سے کیلی فورنیا تک تمام ملکوں کے کروڑوں مزدوروں کا مشترکہ پروگرام ہے۔

پھر بھی جب یہ شائع ہوا ہم اسے سوشلسٹ مینی فیسٹو نہیں کہہ سکتے تھے ۔1847ء میں دو طرح کے آدمیوں کو سوشلسٹ کہا جاتا تھا۔ ایک طرف مختلف یوٹوپیائی نظاموں کے ماننے والے تھے۔ جن میں انگلینڈ میں اووین کے مقلد اور فرانس میں فورئیے کے ماننے والے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ان دونوں کی تعداد اس وقت کم ہو کر چھوٹی چھوٹی ٹولیاں رہ گئی تھیں اور رفتہ رفتہ مٹتی جارہی تھیں۔ دوسری طرف بھانت بھانت کے سماجی نیم حکیم تھے جو اپنے مختلف ہر مرض کے نسخوں کے ذریعہ اور طرح طرح کے جوڑ پیوند لگاکر سرمایہ اور نفع کو ذرا بھی نقصان پہنچائے بغیر سماجی خرابیوں کو دور کرنا چاہتے تھے۔ ان دونوں قسموں کے لوگ مزدور تحریک سے باہر تھے۔ اور مدد کے لئے پڑھے طبقوں کا منہ تاکا کرتے تھے۔ برعکس اسکے مزدور طبقے کا وہ حصہ جو نئے سرے سے سماج کی بنیادی تعمیر کی مانگ کر رہا تھا اور جسے یقین تھا کہ محض سیاسی الٹ پلٹ کافی نہیں ہیں۔ اس زمانے میں اپنے آپ کو کمیونسٹ کہتا تھا۔ اس وقت تک یہ ایک ان گھڑ محض جبلی اور زیادہ تر بھدی کمیونزم کے دو نظام قائم کئے۔ فرانس میں کابے کی "ایکاری "کمیونزم اور جرمنی می وائیٹلنگ کی۔ 1847ء میں سوشلزم ایک بورژوا تحریک تھی اور کمیونزم مزدور طبقے کی تحریک ۔ سوشلزم کم از کم براعظم یورپ میں کافی نیک نام تھی۔ کمیونزم کا حال اس کے برعکس تھا اور چونکہ ہم لوگوں کی اس وقت بھی یہ پختہ رائے تھی کہ مزدور طبقے کی نجات مزدور طبقے کا اپنا کام ہے اس لئے ہمیں کوئی شک وشبہ نہیں ہوا کہ ہم کون سا نام اختیار کریں اور اس کے بعد ہمیں کبھی اس نام کو ترک کرنے کا خیال نہیں آیا۔

 دنیا کے مزدور ایک ہو!; جب آج سے بیالیس برس قبل پیرس انقلاب ایسے پہلے انقلاب کے موقع پر جبکہ پرولتاریہ اپنی مانگیں لے کر سامنے آیا تھا۔ ہم نے یہ آواز بلند کی تو کم لوگوں نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن 28 ستمبر 1864ء کو مغربی یورپ کے زیادہ تر ملکوں کے برولتاری انٹرنیشنل ورکنگ منس ایسوسی ایشن میں متحد ہو گئے جس کی شاندار یاد آج بھی زندہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انٹر نیشنل خود صرف نو برس زندہ رہی مگر اس نے تمام ملکوں کے پرولتاریوں کے ابدی اتحاد کو جنم دیا جو آج بھی زندہ ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اور اس کی آج سے بہتر شہادت نہیں مل سکتی کیونکہ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں یورپ اور امریکہ کا پرولتاریہ اپنی مجاہد قوتوں کا جائزہ لے رہا ہے جو پہلی بار ایک فوج کی طرح ایک جھنڈے کے نیچے ایک فوری مقصد کی خاطر منظم ہوئی ہیں۔ یعنی قانونی طور پر کام کا دن آٹھ گھنٹے کا مقر ر کیا جائے جس کا اعلان 1866ء میں انٹرنیشنل کی جنیوا کانگرس نے اور پھر 1889 میں مزدوروں کی پیرس کانگرس نے کیا۔ اور آج کا نظارہ تمام ملکوں کے سرمایہ داروں اور زمین داروں کو دکھا دے گا کہ تمام کہ تمام ملکوں کے مزدور واقعی متحد ہو چکے ہیں۔

 کاش کہ مارکس بھی آج میرے ساتھ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھتا!

 فریڈرک اینگلز ۔ لندن ۔ یکم مئی 1890


1892ء کے پولش ایڈیشن ک دیباچہ

کمیونسٹ مینی فیسٹو کا ایک نیا پولش شائع کرنے کی ضرورت پیدا ہو جانے سے متحد نتائج اخذ کرنا ممکن ہو گیا۔ سب سے پہلے یہ بات قابل ذکر ہے کہ ادھر کچھ دنوں سے مینی فیسٹو براعظم یورپ میں بڑے پیمانے کی صنعت کی نشوونما کا ایک قسم ک آئینہ بن گیا ہے۔ کسی ملک میں جس حد تک بڑے پیمانے کی صنعت بڑہتی ہے اس اعتبار سے اس ملک کے مزدوروں میں یہ خواہش بڑھتی ہے کہ وہ مزدور طبقے کی حیثیت سے مالک طبقے سے اپنے تعلقات کے بارے میں واقفیت حاصل کریں۔ ان میں سوشلسٹ تحریک پھیلتی ہے اور مینی فیسٹو کی مانگ بڑہتی ہے۔ چناچہ کسی ملک میں مینی فیسٹو جتنی تعداد میں چھپتا ہے اس سے اس ملک میں ہر صرف مزدوروں کی تحریک کی حالت ہی کا نہیں بلکہ بڑے پیمانے کی صنعت کی نشوونما کا بھی بہت کچھ صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

چناچہ مینی فیسٹو کے نئے پولش ایڈیشن سے صنعت کی قطعی ترقی کا پتہ چلتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دس برس پہلے جب پچھلا ایڈیشن چھپا تھا اس وقت سے آج تک یہ ترقی ہوئی ہے۔ روسی پولینڈ، کانگرس پولینڈ روسی سلطنت کا بڑا صنعتی علاقہ بن چکا ہے۔ روس کی بڑے پیمانے کی صنعت ادھر ادھر بکھری ہوئی ہے۔ ایک حصہ خلیج فن لینڈ کے پاس ہے اور دوسرا مرکز میں یعنی ماسکو اور ولادی میر شہروں میں تیسرا بحیرۂ سود اور آزوف کے کنارے ہے، باقی کہیں اور ہیں ۔ اس کے برعکس پولینڈ کی صنعت نسبتاًچھوٹے علاقے میں واقع ہے اور ایک جگہ سمٹ جانے سے اس کو فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی ۔ روسی کارخانہ داروں نے اس فائدہ ک اعتراف کیا جب انہوں نے پولینڈ کی صنعت کے مقابلے سے بچنے کے لئے حفاظتی محصول لگانے کا مطالبہ کیا باوجود اس کے کہ پولینڈ والوں کو روسی بنا لینے کی وہ بڑی زبردست خواہش رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف ظاہر ہے کہ پولش کارخانہ داروں اور روسی حکومت دونوں کو نقصان ہے کیونکہ پولینڈ کے مزدوروں میں سوشلسٹ خیالات تیزی سے پھیل رہے ہیں اور مینی فیسٹو کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

لیکن پولش صنعت کی تیز نشوونما جو روسی صنعت کو پیچھے چھوڑے جارہی ہے، بجائے خود ایک نیا ثبوت ہے اس بات کا کہ پولش عوام میں بڑی جان ہے۔ یہ ان کے آنے والے قومی احیا کی ایک نئی ضمانت ہے اور ایک مضبوط آزاد پولینڈ کا احیا محض پولینڈ کے لوگو ں کا نہیں بلکہ ہم سبہوں کاکام ہے ۔ یورپ کی قوموں کا پر خلوص بین اقوامی تعاون اس وقت ممکن ہے جب ان میں سے ہر قوم اپنے ملک میں پوری طرح مالک ہو۔1848کے انقلا ب نے پرولتاریہ کے جھنڈے تلے محض یہ موقع دیا کہ پرولتاری مجاہد بورژوا طبقے کاکام پورا کریں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی وصیت کے عاملوں لوئی بونا پارٹ اور بسمارک کے ہاتھوں اٹلی ، جرمنی اور ہنگر ی کی آزادی بھی حاصل کی۔ لیکن پولینڈ کو جس نے 1792سے ان تینوں ملکوں کے مقابلے میں انقلاب کی زیادہ خدمت کی ہے تنہا چھوڑ دیا گیا۔ جبکہ 1863میں اسے دس گنی زیادہ طاقتور روسی فوج کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے بڑے ۔ امرا پولینڈ کی آزادی کو نہ تو قائم رکھ سکے اور نہ دوبارہ حاصل کر سکے۔ آج بورژوا طبقے کی نظروں میں یہ آزادی اگر اور کچھ تو بے معنی ضرور ہے۔ تاہم یورپکی قوموں کے ہم آہنگ اتحاد اور تعاون کے لئے یہ ضروری چیز ہے۔ اس کو پولینڈ کا نوعمر پرولتاریہ حاصل کر سکتا ہے اور اسی کے ہاتھوں میں یہ محفوظ رہے گی ۔ کیونکہ باقی سارے یورپ کے مزدوروں کو پولینڈ کی آزادی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی خود پولینڈ کے مزدوروں کو۔

فریڈرک اینگلز۔ لندن ۔ 10 فروری 1892 ۔

1893 کے اطالوی ایڈیشن ک دیباچہ
اطالوی قاری کے نام

" کمیونسٹ پارٹی کے مینی فیسٹو کی اشاعت, 18 مارچ 1848ء کو ہوئی جو کہ میلان اور برلن کے انقلابوں کا دن تھا۔ یہ دو قوموں کی ہتھیار بند بغاوتیں تھیں جن میں سے ایک براعظم یورپ کے مرکز میں اور دوسری بحرروم کے ملکوں کے مرکز میں آباد تھی ۔ دو قوموں کی جو اس وقت تک اندرونی جھگڑوں اور پھوٹ سے کمزور ہو چکی تھیں اور اس طرح غیروں کے تسلط میں جا چکی تھیں ۔ اٹلی ، آسٹریائی شاہنشاہ کے ماتحت تھا اور جرمنی کو زار روس کا جوا پہننا پڑا جس کی گرفت اگرچہ بالواسطہ زیادہ تھی مگر مضبوطی میں کم نہیں تھی۔ 18 مارچ 1848کے واقعات نے اٹلی اور جرمنی دونوں کو اس نے ذلت سے چھٹکارا دلایا۔ اگر 1848سے 1871تک کے عرصے میں ان دو بڑی قوموں کی نئی سرے سے تشکیل ہوئی اور کسی نہ کسی طرح انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا گیا تو اس کی وجہ بقول کارل مارکس کے یہ تھی کہ جن لوگوں نے 1848ء کے انقلاب کو دبایا وہی اپنے ارادوں کے باوجود اس کی وصیت کے عامل بن گئے۔

وہ انقلاب ہر جگہ مزدور طبقے کا کارنامہ تھا۔ مزدوروں ہی نے اس کے مورچے کھڑے کئے اور اپنی جانیں قربان کیں۔ لیکن صرف پیرس کے مزدور حکومت کا تختہ الٹ کر یہ قطعی معینہ مقصد رکھتے تھے کہ بورژوا نظام کا تختہ بھی الٹ دیں۔ اگرچہ وہ یہ احساس رکھتے تھے کہ ان کے اپنے طبقے اور بورژوا طبقے کا اختلا ف اٹل ہے، پھر بھی نہ تو ملک کی اقتصادی نشوونما اور نہ فرانس کے عام مزدوروں کا ذہنی ارتقا اس منزل پر پہنچا تھا جہاں سماج کی دوبارہ تعمیر ممکن ہوتی ۔ لہٰذاآخری نتیجہ یہ ہو کہ انقلاب کا پھل سر مایہ داروں کو مل گیا ۔ دوسرے ملکوں یعنی اٹلی ،جرمنی اور آسٹریا میں مزدوروں نے شروع ہی سے بورژوازی کو اقتدار کی جگہ پر بٹھا دیا تھا اور اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ لیکن کسی ملک میں بھی قومی آزادی کے بغیر بورژوا طبقے کی حکومت ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا1848کا انقلاب اپنے جلو میں ان قوموں کا اتحاد اور ان کی خود مختاری لایا جو اس وقت تک ان سے محروم تھیں یعنی اٹلی، جرمنی اورہنگری ۔ پولینڈ کی باری اب آئے گی۔

غرضیکہ 1848ء کا انقلاب اگرچہ سوشلسٹ انقلاب نہیں تھا مگر اس نے اس کا راستہ صاف کیا اس کے لئے زمین تیار کی۔ تما م ملکوں میں بڑے پیمانے کی صنعت کو زور پہنچا کر بورژوا نظام نے گذشتہ پینتالیس برسوں میں ہر جگہ ایک ایسے پرولتاریہ کو جنم دیا ہے جو تعداد میں کثیر ہے، یکجا ہے اور طاقتور ہے ۔غرضیکہ مینی فیسٹو کے الفاظ میں اس نے اپنی قبر کھودنے والوں کو جنم دیا ہے۔ ہر ایک قوم کی خود مختاری اور اتحاد حاصل کئے بغیر نہ تو پرولتاریہ کا بین اقوامی اتحاد قائم کرنا ممکن ہو گا اور نہ مشترکہ مقاصد کے لئے ان قوموں کا پر امن اور ہوش مند تعاون ۔ 1848 سے پہلے کے سیاسی حالات میں ذرا اطالوی،ہنگری ، جرمن، پولش اور روسی مزدوروں کے کسی متحدہ بین اقوامی عمل کا تصور کیجئے۔

چناچہ 1848ء کی لڑائیاں رائیگاں نہیں گئیں اور نہ وہ پینتالیس برس جو ہمیں اس انقلابی عہد سے جدا کرتے ہیں ، بے مقصد صرف ہوئے ۔ پھل پک رہا ہے اور میری تمنا یہی ہے کہ اس اطالوی ترجمے کیا اشاعت اطالوی پرولتاریہ کی فتح کے لئے اسی طرح مبارک ثابت ہو جس طرح اصل مینی فیسٹو کی اشاعت بین اقوامی انقلاب کے لئے ثابت ہوئی تھی۔

سرمایہ داری نے گذشتہ زمانے میں جو انقلابی کا م کیا ہے اس کا ذکر مینی فیسٹو میں پورے انصاف کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اٹلی پہلی سرمایہ دار قوم تھی۔ جاگیر دار عہد وسطی کا خاتمہ اور جدید سرمادارانہ عہد کی ابتدا ایک عظیم الشان شخصیت کے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ اطالوی تھا: دانتے، جو کہ عہد وسطیٰ کا آخری اور ساتھ ہی عہد جدید کا پہلا شاعر ہے۔ 1300کی طرح آج بھی نیا دور قریب آرہا ہے۔ کیا اٹلی ہمیں وہ نیا دانتے دے گا جو اس نئے پرولتاری عہد کے جنم کی نیک ساعت کی خبر لائے گا؟

فریڈرک اینگلز ۔ لندن ۔ یکم فروری 1893